میکسیکو نے اپنی کیریبین ساحلی پٹی کو بدبودار سمندری کائی سے بچانے کے لیے بحریہ کو متحرک کر دیا ہے۔ یہ کائی سیاحت پر انحصار کرنے والی میکسیکو کی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
یہ بھوری رنگ کی کائی ساحلوں پر جمع ہو کر موٹی اور گلتی ہوئی تہوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے گلنے کے عمل سے ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس خارج ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ساحلوں پر سڑے ہوئے انڈوں جیسی شدید بو پھیل جاتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف سیاحوں کو دور بھگاتی ہے بلکہ مقامی آبادی کے لیے سانس لینے کے مسائل بھی پیدا کرتی ہے۔
صدر کلاڈیا شینبام کی انتظامیہ نے اس بار حکمت عملی تبدیل کی ہے۔ اب ساحل کی صفائی پر انحصار کرنے کے بجائے، بحریہ کھلے سمندر میں ہی اس کائی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ساحل سے دور سمندر میں خصوصی رکاوٹیں نصب کی جا رہی ہیں تاکہ کائی کو ریت تک پہنچنے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔
بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہم اب صرف ساحل صاف نہیں کر رہے۔ یہ ایک بحری دفاعی آپریشن ہے۔ اگر کائی ریت تک پہنچ گئی، تو سمجھیں ہم جنگ ہار گئے۔”
اس مسئلے کی شدت کا اندازہ یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا کے سیٹلائٹ ڈیٹا سے لگایا جا سکتا ہے، جہاں بحر اوقیانوس میں کائی کا ایک وسیع بیلٹ موجود ہے۔ اس کا چھوٹا سا حصہ بھی اگر ساحل سے ٹکرائے، تو پلایا ڈیل کارمین اور ٹولم جیسے مشہور سیاحتی مقامات پر کائی کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔
معاشی نقصان واضح ہے۔ رویرا مایا کے علاقوں میں کائی کے موسم کے دوران ہوٹلوں کی بکنگ میں 20 سے 30 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ کاروباری افراد اپنی مدد آپ کے تحت صفائی کے اخراجات اٹھانے پر مجبور ہیں، کیونکہ حکومتی وسائل سینکڑوں کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کے لیے ناکافی ہیں۔ کچھ ہوٹل مالکان نے کائی کو پانی سے نکالنے کے لیے بڑے ویکیوم نما جہازوں کا استعمال شروع کیا ہے، لیکن کائی کی مقدار اکثر جدید آلات کی صلاحیت سے بھی بڑھ جاتی ہے۔
ماہرینِ ماحولیات اس صورتحال پر فکرمند ہیں۔ کائی کے گلنے سے پانی میں آکسیجن کی سطح کم ہو رہی ہے اور سورج کی روشنی رک رہی ہے، جس سے میسو امریکن بیریئر ریف (مرجان کی چٹانیں) تباہ ہو رہی ہیں۔
حکومت نے بحریہ کے بیڑے کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ہنگامی فنڈز مختص کیے ہیں، لیکن ماہرین پرامید نہیں۔ سمندر کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور زرعی کھادوں کے فضلے کی وجہ سے یہ کائی ہر سال پہلے سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
کوینتانا رو کے ساحلی علاقوں کے لیے یہ جنگ صرف ریت صاف کرنے کا نام نہیں، بلکہ روزگار بچانے کی جدوجہد ہے۔ بحریہ کی نئی حکمت عملی ایک ابتدا ہے، لیکن کامیابی کا دارومدار صرف حکومتی دعووں پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ آنے والے دنوں میں ساحل کتنے صاف رہتے ہیں۔
