دوحہ نے علاقائی سکیورٹی کے تعطل میں ایک اہم تبدیلی کا عندیہ دیا ہے۔ قطری حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان کی خاموش سفارت کاری کے نتیجے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں "پیش رفت” ہوئی ہے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بائیڈن انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ خطے میں وسیع تر جنگ کو روکنے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس نے روایتی طور پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ” اور بالواسطہ رابطوں کی پالیسی برقرار رکھی ہے، لیکن قطر کا بطور بنیادی ثالث کردار اب پیغامات کے تبادلے کا سب سے قابلِ عمل ذریعہ بن چکا ہے۔
دوحہ میں ہونے والی بات چیت سے واقف ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ "دونوں جانب کے مؤقف میں فرق کم ہو رہا ہے۔” مذاکرات کا محور ایک ہی ہدف ہے: ان دشمنیوں کا خاتمہ جنہوں نے بحیرہ احمر اور قریبی سرحدوں کو بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
بائیڈن انتظامیہ تاحال محتاط ہے۔ واشنگٹن میں حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، تاہم وہ عراق، شام اور یمن میں ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے خلاف جوابی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فوجی طاقت کے ذریعے ڈیٹرنس اور سفارتی راستے تلاش کرنے کی یہ دوہری پالیسی ایک نازک توازن ہے جو اب تک جنگ بندی تک نہیں پہنچ سکی۔
تہران کا مؤقف بھی پیچیدہ ہے۔ اگرچہ ایرانی قیادت نے بات چیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے، لیکن وہ علاقائی کشیدگی میں کمی کو جوہری معاہدے اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے سے جوڑ رہے ہیں۔ ایرانیوں کے لیے دوحہ میں ہونے والی بات چیت محض موجودہ جنگ کے بارے میں نہیں، بلکہ یہ اپنے لیے مزید سیاسی گنجائش پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ دوحہ کی جانب سے بتائی گئی یہ "پیش رفت” نازک ہو سکتی ہے۔ ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطے دونوں دارالحکومتوں میں داخلی سیاسی دباؤ کی وجہ سے ناکام ہوتے رہے ہیں۔ امریکا میں انتخابی عمل تیز ہونے کے ساتھ ہی موجودہ انتظامیہ کے لیے سفارتی کامیابی حاصل کرنے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔
قطر کی یہ کوششیں ضرورت کے تحت ہیں۔ ایک علاقائی جنگ خلیجی ریاستوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی، جو ان کی معیشتوں کو چلانے والے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ دوحہ صرف پیغام رساں کا کردار ادا نہیں کر رہا، بلکہ وہ ایک ایسی دیوار بننے کی کوشش میں ہے جو آگ کو پھیلنے سے روک سکے۔
کیا یہ تازہ ترین سفارتی کوشش کسی باقاعدہ ملاقات کا پیش خیمہ ثابت ہوگی یا محض کشیدگی میں عارضی ٹھہراؤ لائے گی؟ یہ اب بھی سب سے بڑا سوال ہے۔ فی الحال دوحہ میں رابطے کے راستے کھلے ہیں—اور مہینوں میں پہلی بار، دونوں فریق ایک دوسرے کی بات سننے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
