ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو ایک سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایران ان افراد کے لواحقین کو بھاری مالی ہرجانہ ادا کرے جو ایرانی حمایت یافتہ گروپوں سے منسلک علاقائی تنازعات میں مارے گئے۔ ٹرمپ نے ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اسے برسوں پر محیط "غیر مستحکم پراکسی وار” کے بعد احتساب کے لیے ایک ضروری قدم قرار دیا۔
یہ مطالبہ مشرق وسطیٰ کی پالیسی کے حوالے سے ٹرمپ کے جارحانہ لہجے میں ایک نئی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ سابق صدر نے کسی مخصوص رقم یا اس قانونی لائحہ عمل کا ذکر نہیں کیا جس کے تحت یہ ادائیگی ممکن بنائی جا سکے گی، تاہم ان کا پیغام واضح تھا: وہ ایرانی قیادت کے لیے علاقائی اثر و رسوخ کی قیمت کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھانا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "انہوں نے بہت دکھ پہنچایا ہے، انہیں اپنے کیے کی قیمت چکانی پڑے گی۔”
سابق صدر کے اس بیان پر تنقید کرنے والے اسے محض سیاسی بیان بازی قرار دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی قانون میں ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جو کسی خودمختار ریاست کو مجبور کر سکے کہ وہ پراکسی ملیشیا کے اقدامات کے بدلے غیر ملکی شہریوں کو ہرجانہ ادا کرے۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں بھی پابندیوں کو مخصوص انسانی حقوق کے معاملات سے جوڑنے کی کوششیں بین الاقوامی عدالتوں میں شدید رکاوٹوں کا شکار رہی تھیں۔
ایرانی حکومت نے ان ریمارکس کو انتخابی مہم کا حصہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ تہران کا موقف رہا ہے کہ اس کی علاقائی سرگرمیاں دفاعی نوعیت کی ہیں جن کا مقصد مغربی مداخلت کے خلاف اپنے تزویراتی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ٹرمپ کے بیان کو امریکہ میں جاری اندرونی سیاسی دباؤ سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔
ان تنازعات میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے لیے یہ مطالبہ جذباتی لحاظ سے اہم ہے، لیکن عملی طور پر فوری ریلیف کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ سیاسی بیان بازی اور سفارتی حقیقتوں کے درمیان خلیج اب بھی برقرار ہے۔
ٹرمپ کا یہ نیا مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر وہ دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچتے ہیں تو وہ روایتی پابندیوں سے آگے بڑھ کر مالیاتی دباؤ کی پالیسی اپنائیں گے۔ یہ مطالبہ ایک باضابطہ پالیسی بنے گا یا محض انتخابی نعرہ، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن اس سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ مستقبل میں سفارتی مفاہمت کی گنجائش مزید کم ہو رہی ہے۔
