وفاقی حکومت نے 11 اگست 2026 سے پیٹرول کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت اپنی موجودہ سطح پر برقرار رہے گی، جس سے مہنگائی کی چکی میں پسے شہریوں کو وقتی طور پر کچھ سکون ملا ہے۔
یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں آنے والے حالیہ استحکام کے بعد کیا گیا۔ مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں کا انحصار عالمی نرخوں اور روپے کی قدر پر ہوتا ہے؛ اس بار دونوں اشاریوں میں توازن رہا، جس کے باعث حکومت نے قیمتیں بڑھانے سے گریز کیا۔
یہ اقدام ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبوں کے لیے سود مند ثابت ہوگا، جو گزشتہ کئی ماہ سے بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ تاہم ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ یہ ریلیف عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین بدستور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، اور کسی بھی وقت عالمی منڈی میں ہلچل مقامی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
اگرچہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا، مگر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں اب بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں پچھلے مہینوں کے دوران ہونے والا اضافہ اب بھی بازاروں میں مہنگائی کی شکل میں موجود ہے، جس سے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہے۔
اسلام آباد میں قائم ایک انرجی سیکٹر تجزیہ کار کا کہنا ہے، "قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ عملی ہے، لیکن یہ مہنگائی کے بنیادی بحران کا حل نہیں۔ جب تک عالمی توانائی منڈیوں میں قیمتیں مستقل طور پر نیچے نہیں آتیں، صارف تب تک سرحد پار کے عوامل کے رحم و کرم پر رہے گا۔”
حکومت کا یہ فیصلہ بظاہر عوامی دباؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے، جس کے تحت قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ کا بوجھ سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے برداشت کیا ہے۔ اب نظریں 25 اگست کو ہونے والے آئندہ جائزے پر ہیں، جہاں عالمی منڈی کے بدلتے رجحانات ہی اگلا فیصلہ طے کریں گے۔
