پشاور ہائی کورٹ نے منگل کے روز پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں نورین نیازی کی عبوری ضمانت منظور کر لی، جس سے انہیں گرفتاری سے عارضی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔
جسٹس شکیل احمد نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے نورین نیازی کو ہدایت کی کہ وہ 15 روز کے اندر متعلقہ عدالت میں پیش ہو کر اپنے دفاع کا حق استعمال کریں۔ یہ عدالتی حکم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس وقت تک حراست سے روکتا ہے جب تک کہ وہ اپنی قانونی کارروائی مکمل نہ کر لیں۔
سماعت کے دوران نورین نیازی کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکلہ کے خلاف درج مقدمہ سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے جس کا مقصد آواز کو دبانا ہے۔ انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ نورین نیازی عدالتی عمل میں مکمل تعاون کریں گی، تاہم انہیں قانونی دفاع کے لیے دوسرے شہر جانے اور متعلقہ عدالت تک رسائی کے لیے عبوری ضمانت درکار ہے۔
پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات حالیہ عرصے میں انسانی حقوق کے حلقوں کی تنقید کا مرکز رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کا استعمال اکثر سیاسی مخالفین اور ناقدین کو خاموش کرانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقے ان اقدامات کو ڈیجیٹل مواد کی نگرانی اور اداروں کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔
یہ حکم نامہ حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والی اس عدالتی روایت کا تسلسل ہے جس میں صوبائی حدود سے باہر مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد کو عبوری ضمانت دی جا رہی ہے۔ اس طرح کے فیصلوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ملزمان کو اپنا قانونی حقِ دفاع حاصل رہے اور پولیس انہیں راستے میں گرفتار نہ کر سکے۔
عدالت کی جانب سے 15 روز کی مہلت ملنے کے بعد اب نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا تفتیشی ادارے ان الزامات کے حق میں ٹھوس شواہد پیش کر پائیں گے یا نہیں۔ ماضی میں پیکا کے تحت درج کیے گئے کئی مقدمات اسی نوعیت کی عدالتی رکاوٹوں اور شواہد کے فقدان کے باعث طویل قانونی لڑائیوں میں الجھ چکے ہیں۔
فی الحال پشاور ہائی کورٹ کا یہ حکم نورین نیازی کے لیے ایک عارضی ریلیف ہے۔ تاہم، ان کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین اس وقت ہوگا جب وہ متعلقہ ٹرائل کورٹ کے روبرو پیش ہو کر الزامات کا سامنا کریں گی۔
