کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے اپنے بہن بھائیوں پر مبینہ تشدد کرنے والی خاتون کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد سامنے آیا تھا جس نے عوامی حلقوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا تھا۔
ملزمہ، جن کا تعلق ڈیفنس کے رہائشی علاقے سے بتایا جاتا ہے، اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ جج نے 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کی، جس کے بعد وہ آئندہ سماعت تک پولیس کی گرفت سے محفوظ رہیں گی۔
واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ گردش کرنے لگا۔ فوٹیج میں خاتون کو اپنے چھوٹے بہن بھائیوں پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی گھروں میں ہونے والے تشدد اور نجی معاملات کی حدود پر بحث چھڑ گئی۔
واقعے کے بعد پولیس نے متاثرہ بچوں کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق، والد نے ہی تشدد کی شدت کو دیکھتے ہوئے قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔
عدالت میں ملزمہ کے وکلاء کا موقف تھا کہ یہ ایک نجی خاندانی معاملہ ہے جسے سوشل میڈیا پر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا منظر پورے واقعے کی عکاسی نہیں کرتا۔
دوسری جانب، بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ گھر کی چار دیواری کا مطلب یہ نہیں کہ بچوں پر تشدد کی کھلی چھٹی دی جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ قانون کو اپنی حدود میں رہ کر بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر مقدمے کی مکمل رپورٹ پیش کریں۔ فی الحال ملزمہ ضمانت پر رہا ہیں، تاہم اس کیس نے کراچی میں گھریلو تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان پر قانونی گرفت کی ضرورت کو ایک بار پھر موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔
متاثرہ بچے اس وقت اپنے اہل خانہ کی تحویل میں ہیں۔ حکام کی جانب سے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا بچوں کو کسی ماہرِ نفسیات سے معائنے کے لیے بھجوایا جائے گا یا نہیں۔
