اسلام آباد — پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے وفاقی وزراء کو "فارم 47 کی پیداوار” قرار دے کر حکومتی اتحاد میں جاری کشیدگی کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے ہونے والی بحث پر خورشید شاہ کا ردِعمل انتہائی تلخ رہا۔
خورشید شاہ نے پارلیمنٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ "جو وزراء آج نئے صوبوں کی بات کر رہے ہیں، وہ خود فارم 47 کی پیداوار ہیں۔”
سیاسی حلقوں میں "فارم 47” کی اصطلاح فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی علامت بن چکی ہے۔ خورشید شاہ کا یہ بیان محض ایک سیاسی جملہ نہیں، بلکہ ان وزراء کی اخلاقی اور آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے جو عوامی مینڈیٹ کے بجائے متنازعہ انتخابی نتائج کے ذریعے ایوان میں پہنچے۔
پیپلز پارٹی کے لیے صوبائی حدود میں تبدیلی کا معاملہ 18ویں ترمیم پر براہِ راست حملہ ہے۔ سندھ میں اپنی حکومتی بنیادیں رکھنے والی جماعت اسے کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں۔ خورشید شاہ نے واضح کیا کہ حکومتی وزراء کی توجہ ملک کے اصل مسائل پر ہونی چاہیے، نہ کہ انتظامی تقسیم کے غیر ضروری مباحث پر۔
انہوں نے حکومتی بنچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "عوام بجلی کے بل ادا کرنے سے قاصر ہیں اور آپ نئے صوبوں کے خواب دکھا رہے ہیں۔”
یہ بیان حکومتی اتحاد کے اندر موجود گہری خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کو پارلیمنٹ میں حمایت فراہم کر رہی ہے، مگر معاشی پالیسیوں اور سیاسی ترجیحات پر دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ خورشید شاہ کے اس جارحانہ انداز سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی خود کو وفاقی حکومت کے غیر مقبول فیصلوں سے دور رکھنا چاہتی ہے۔
یہ تلخ کلامی محض سیاسی بیان بازی ہے یا اتحاد کے ٹوٹنے کی دستک، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔ تاہم، یہ بات طے ہے کہ حکومت کی قانون سازی کی ترجیحات پر اتحادی جماعتوں کے اندر ہی شدید تحفظات موجود ہیں۔
