گرنزی کے دیہی علاقوں میں گھومنے والے ‘فیرٹس’ اب باقاعدہ سائنسی تحقیق کا مرکز بن رہے ہیں۔ حکام نے ایک ایسی مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد جزیرے پر موجود ان پراسرار جانوروں کی درست تعداد اور ان کے رہن سہن کے طریقوں کا تعین کرنا ہے۔
برسوں سے گرنزی کے رہائشی کھیتوں اور جھاڑیوں کے قریب ان جانوروں کو دیکھتے آئے ہیں، لیکن ان کی آبادی کی نوعیت ہمیشہ ایک معمے کی طرح رہی ہے۔ اب تک یہ واضح نہیں تھا کہ کیا یہ محض گھروں سے بھاگے ہوئے پالتو جانور ہیں یا پھر انہوں نے جزیرے پر اپنی ایک خود مختار نسل قائم کر لی ہے۔
محققین اب جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ جزیرے کے مختلف مقامات پر موشن سینسر کیمرے اور ہیئر سیمپلنگ اسٹیشنز نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ ان جانوروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔ یہ طریقہ کار نہ صرف ان کی تعداد بتائے گا بلکہ یہ بھی واضح کرے گا کہ یہ جانور انسانی آبادی کے قریب کیسے زندہ رہتے ہیں۔
اس تحقیق کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ فیرٹس شکاری جانور ہیں۔ اگر ان کی تعداد ایک خاص حد سے تجاوز کر گئی ہے، تو یہ مقامی پرندوں اور خرگوشوں کی آبادی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے بغیر کسی بھی قسم کی پالیسی بنانا ممکن نہیں تھا۔
تحقیق میں مقامی کسانوں اور شکاریوں کا تجربہ بھی شامل کیا جا رہا ہے، جنہوں نے برسوں سے ان جانوروں کو قریب سے دیکھا ہے۔ ان کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ہی ‘ہاٹ سپاٹس’ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ایک محقق نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم اب تک صرف اندازوں پر انحصار کر رہے تھے۔ یہ تحقیق ہمیں ٹھوس حقائق دے گی کہ آیا یہ فیرٹس مقامی ایکو سسٹم کا حصہ بن چکے ہیں یا نہیں۔”
فیلڈ ورک اگلے چند ماہ تک جاری رہے گا اور نتائج سال کے آخر تک متوقع ہیں۔ اگر اعداد و شمار نے بڑی آبادی کی تصدیق کی، تو گرنزی انتظامیہ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ان جانوروں کو مقامی حیات کے طور پر قبول کیا جائے یا ان کی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ فی الحال، گرنزی کے یہ خفیہ مکین اپنی بقا کی جنگ تنہائی میں لڑ رہے ہیں۔
