لاہور — لاہور ہائی کورٹ نے منگل کے روز این سی سی آئی اے کیس میں نورین نیازی کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی، جس سے انہیں گرفتاری سے عارضی ریلیف مل گیا ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے اپنے حکم میں حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک مقررہ مدت تک نورین نیازی کو گرفتار نہ کریں، تاکہ وہ متعلقہ ٹرائل کورٹ میں پیش ہو کر اپنی ضمانت کا عمل مکمل کر سکیں۔
اپنے وکلاء کے ہمراہ عدالت میں پیش ہونے والی نورین نیازی نے موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف درج مقدمہ حقائق کے منافی اور سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے۔ ان کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ تفتیشی عمل میں مکمل تعاون کر رہی ہیں اور عدالت کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
این سی سی آئی اے کیس میں انتظامی بے ضابطگیوں اور مالیاتی امور کے حوالے سے لگائے گئے الزامات نے کافی توجہ حاصل کی ہے۔ اگرچہ پراسیکیوشن کی جانب سے درخواست کے وقت اور طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے گئے، تاہم عدالت نے بنیادی قانونی حق کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ کیا۔
نورین نیازی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے خلاف درج ایف آئی آر کا مقصد صرف ہراساں کرنا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ٹرائل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن گرفتاری سے بچنے کے لیے انہیں حفاظتی ضمانت درکار ہے۔
عدالت نے نورین نیازی کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر متعلقہ احتساب یا ٹرائل کورٹ میں پیش ہوں۔ عدالتی حکم کے مطابق، اگر وہ مقررہ وقت میں ٹرائل کورٹ سے رجوع نہیں کرتیں تو یہ حفاظتی ضمانت خود بخود ختم سمجھی جائے گی۔
اب جبکہ قانونی جنگ ٹرائل کورٹ منتقل ہو رہی ہے، مقدمے کا مرکز مالیاتی بے ضابطگیوں کے دستاویزاتی ثبوت ہوں گے۔ فی الحال، اصل سوال یہ ہے کہ کیا دفاعی ٹیم عدالت کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو پائے گی کہ یہ الزامات کسی حقیقی جرم کے بجائے سیاسی کشیدگی کا شاخسانہ ہیں۔
