اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وزارت داخلہ کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ انسانی سمگلنگ کے متاثرین کو مجرموں کی نظر سے دیکھنا بند کیا جائے۔
وزیراعظم کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت پر سرحد پار غیر قانونی نقل مکانی اور انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کے لیے عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ برسوں سے، سمگلنگ کا شکار ہونے والے افراد اکثر طویل قانونی لڑائیوں میں پھنس جاتے ہیں، جہاں انہیں سرحد پار کرنے کے جرم میں قید کر دیا جاتا ہے، جبکہ اصل سمگلر اکثر گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔
وزیراعظم نے اسلام آباد میں اعلیٰ حکام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "یہ لوگ ایک سفاک کاروبار کا شکار ہیں۔ انہیں ملزمان کے بجائے متاثرین سمجھنا ریاست کی ذمہ داری ہے، ورنہ یہ نظام کی ناکامی ہے۔”
نئی ہدایات کے تحت وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور مقامی پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی توجہ متاثرین کو پکڑنے کے بجائے ان منظم نیٹ ورکس کو توڑنے پر مرکوز کریں جو اس گھناؤنے کاروبار کو چلا رہے ہیں۔ حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اب حراست کے بجائے متاثرین کی بحالی اور انہیں محفوظ طریقے سے ان کے گھروں تک پہنچانے کے پروٹوکول پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسیاں انسانی حقوق کے بجائے صرف سرحدی اعداد و شمار پر مرکوز رہی ہیں۔ جب کوئی کشتی ڈوبتی ہے یا تارکین وطن کو ملک بدر کیا جاتا ہے، تو قانونی کارروائی کا شکار وہ غریب افراد ہوتے ہیں، نہ کہ وہ سمگلر جو اس سفر سے لاکھوں کماتے ہیں۔ متاثرین کے طور پر دوبارہ درجہ بندی کرنے کا حکومتی فیصلہ احتساب کے رخ کو تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے۔
تاہم، انسانی حقوق کے ماہرین محتاط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کاغذی احکامات اکثر زمینی حقائق کو تبدیل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، خاص طور پر دور دراز سرحدی علاقوں میں جہاں مقامی حکام دہائیوں سے سزا پر مبنی پالیسیوں کے عادی ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم کے حکم میں یہ بھی شامل ہے کہ وزارت داخلہ اب پکڑے جانے والے تارکین وطن کی تعداد کے بجائے، توڑے گئے سمگلنگ نیٹ ورکس کی ماہانہ رپورٹ پیش کرے گی۔
کیا یہ بیانیہ تبدیلی واقعی متاثرین کے لیے ریلیف کا باعث بنے گی؟ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے پروٹوکول کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، لیکن اس وقت حراستی مراکز میں موجود سینکڑوں افراد کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ ان کے مقدمات کتنی تیزی سے ختم کیے جاتے ہیں۔
