ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس لائنز میں منگل کے روز ہونے والے ایک دھماکے میں سیکیورٹی کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ انتہائی حساس سمجھے جانے والے علاقے میں ہونے والے اس واقعے نے سیکیورٹی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
زخمی اہلکار کو فوری طور پر قریبی ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق اہلکار کے جسم پر دھماکے کے ٹکڑے لگے ہیں، تاہم اب اس کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ طبی نگرانی میں ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ دھماکا خیز مواد بیرکوں کے قریب نصب کیا گیا تھا۔ واقعے کے فوراً بعد بم ڈسپوزل یونٹ کو طلب کر لیا گیا، جس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ تفتیشی ٹیمیں اب اس بات کا سراغ لگا رہی ہیں کہ سیکیورٹی حصار اور چیک پوائنٹس کے باوجود دھماکا خیز مواد اندر تک کیسے پہنچا۔
ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ڈی آئی خان طویل عرصے سے عسکریت پسندوں کا ہدف رہا ہے۔ ایک محفوظ اور قلعہ بند پولیس تنصیب کے اندر ہونے والا یہ حملہ علاقے میں سیکیورٹی کے بہتر ہونے کے حکومتی دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
پولیس حکام نے واقعے کی تفصیلات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دھماکا ریموٹ کنٹرول تھا یا ٹائم ڈیوائس۔ واقعے کی باضابطہ تحقیقات بدھ کی صبح شروع ہونے کی توقع ہے، تاہم مقامی لوگ پولیس کے سیکیورٹی انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔
فی الحال پولیس لائنز کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں تاکہ ان حملہ آوروں تک پہنچا جا سکے جنہوں نے ضلع کے مرکزی قانون نافذ کرنے والے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانے کی جسارت کی۔
