لائم ریجس، برطانیہ — انیسویں صدی کی مشہور جیواشم ماہر میری ایننگ کے سابقہ گھر پر ’بلیو پلاک‘ نصب کر دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز اس خاتون کی سائنسی خدمات کا اعتراف ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے بیشتر حصے میں سماجی اور صنفی تعصبات کے باوجود ارضیات کی دنیا میں وہ انکشافات کیے جنہوں نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
میری ایننگ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ڈورسیٹ کے ساحلوں پر پتھروں اور باقیات کی تلاش میں گزارا۔ والد کی وفات کے بعد خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے وہ ساحل سے ملنے والے "عجیب و غریب پتھر” سیاحوں کو فروخت کرتی تھیں۔ اس دور میں جب خواتین کو سائنسی اداروں میں داخلہ نہیں ملتا تھا، میری ایننگ نے آئی تھیوسارس اور پلیسیوسار کے مکمل ڈھانچے دریافت کر کے ماہرینِ ارضیات کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔
اس دور کے بڑے بڑے سائنسدان ان سے جیواشم خریدتے اور اپنے نام سے مقالے شائع کرتے، جبکہ میری ایننگ کا نام اکثر پسِ پشت ڈال دیا جاتا۔ جیولوجیکل سوسائٹی آف لندن نے ان کی وفات کے 72 سال بعد تک خواتین کے لیے اپنے دروازے نہیں کھولے تھے۔ یہ پلاک اس تاریخی ناانصافی کا ایک علامتی ازالہ ہے۔
مقامی مورخین کا کہنا ہے کہ میری ایننگ محض ایک جیواشم ہنٹر نہیں تھیں، بلکہ وہ ایک ایسی محقق تھیں جن کی آنکھ نے ماضی کی ایسی پرتیں کھولیں جو اس وقت کے پڑھے لکھے مرد سائنسدانوں کی سمجھ سے بالاتر تھیں۔
لائم ریجس کی براڈ سٹریٹ پر واقع ان کے گھر پر نصب یہ تختی اب سیاحوں کو یہ یاد دلائے گی کہ تاریخ صرف ان کی نہیں لکھی جاتی جو ایوانوں میں بیٹھتے ہیں، بلکہ ان کی بھی ہوتی ہے جو ساحل کی ریت میں انسانیت کے ارتقاء کے سراغ ڈھونڈتے ہیں۔
میری ایننگ 47 سال کی عمر میں کسمپرسی کی حالت میں انتقال کر گئیں۔ آج دنیا بھر کے عجائب گھروں میں موجود ان کی دریافتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سائنسی دنیا ان کی مقروض ہے، اور یہ بلیو پلاک اس قرض کی ادائیگی کی جانب ایک دیرینہ مگر اہم قدم ہے۔
