پولیس نے میر رضا قتل کیس میں عبوری چالان جمع کراتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ تاحال کسی بھی ملزم کی نشاندہی نہیں ہو سکی۔ مقامی عدالت میں پیش کی گئی اس رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ ہفتوں کی تحقیقات کے باوجود تفتیش میں اب تک کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
کیس کی فائل تاحال کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر بند دکھائی دیتی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ مختلف پہلوؤں پر کام کر رہے ہیں، لیکن چالان میں کسی بھی ملزم کا نام شامل نہ ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے پاس ایسے فارنزک شواہد یا گواہ موجود نہیں جو کسی کو اس جرم سے براہِ راست جوڑ سکیں۔
مقتول کے اہل خانہ نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ بااثر حلقوں کا دباؤ پولیس کو آزادانہ تفتیش سے روک رہا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس کی یہ سستی انصاف کی فراہمی کے عمل کو مشکوک بنا رہی ہے۔
ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم موبائل ڈیٹا اور بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔” جب ان سے پوچھا گیا کہ اتنا وقت گزرنے کے باوجود کوئی مشتبہ شخص سامنے کیوں نہیں آیا، تو انہوں نے کیس کی حساسیت کا حوالہ دے کر مزید بات کرنے سے انکار کر دیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق، بغیر کسی نامزد ملزم کے عبوری چالان جمع کرانا تفتیشی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف کیس کمزور ہوتا ہے بلکہ پولیس کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھتے ہیں، خاص طور پر جب معاملہ ایک سنگین اور ہائی پروفائل قتل کا ہو۔
عدالت نے کیس کی اگلی سماعت رواں ماہ کے آخر میں مقرر کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پولیس اگلی سماعت تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش کر پاتی ہے یا یہ کیس بھی تاحال حل طلب معمہ ہی رہے گا۔
