سائنسدانوں نے اولمپس مونس کے بارے میں اہم نئی معلومات حاصل کی ہیں، جو شمسی نظام کا سب سے بڑا آتش فشاں ہے۔ تازہ تحقیق نے اس عظیم آتش فشاں کی تشکیل، ارضیاتی تاریخ اور ان آتش فشانی عملوں پر نئی روشنی ڈالی ہے جنہوں نے قدیم مریخ کی سطح کو تشکیل دیا۔
محققین نے مریخ کے گرد گردش کرنے والے خلائی مشنز سے حاصل ہونے والی ہائی ریزولوشن تصاویر، زمینی نقشوں اور دیگر سائنسی ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ تحقیق کے دوران آتش فشاں کی ڈھلوانوں، لاوے کے بہاؤ اور اردگرد کے علاقوں کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ اولمپس مونس لاکھوں برس تک ہونے والے مسلسل آتش فشانی دھماکوں کے نتیجے میں وجود میں آیا۔
اولمپس مونس سیارہ مریخ پر واقع ہے اور اردگرد کے میدانوں سے تقریباً 22 کلومیٹر (14 میل) بلند ہے، یعنی اپنی بنیاد سے ناپا جائے تو یہ ماؤنٹ ایورسٹ سے تقریباً تین گنا زیادہ بلند ہے۔ اس کا قطر تقریباً 600 کلومیٹر (370 میل) ہے اور اس کے اطراف میں کئی مقامات پر بلند چٹانی دیواریں موجود ہیں۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اولمپس مونس اس لیے اتنا بڑا بن سکا کیونکہ مریخ پر پلیٹ ٹیکٹونکس کا فعال نظام موجود نہیں۔ زمین پر ٹیکٹونک پلیٹیں مسلسل حرکت کرتی رہتی ہیں، جس سے آتش فشاں اپنے میگما کے منبع سے دور ہو جاتے ہیں، جبکہ مریخ کی سطح تقریباً ساکن رہی، جس کے باعث لاکھوں برس تک ایک ہی مقام پر بار بار لاوا نکلتا رہا اور آتش فشاں مسلسل بلند ہوتا گیا۔
تحقیق سے یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ اولمپس مونس کے بعض حصے پہلے اندازوں سے زیادہ عرصے تک آتش فشانی طور پر سرگرم رہے ہوں گے۔ قدیم لاوے کے بہاؤ اور سطحی ساخت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مختلف ادوار میں کئی مرتبہ آتش فشانی سرگرمیاں ہوئیں، اگرچہ آج اسے غیر فعال آتش فشاں سمجھا جاتا ہے۔
محققین اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ماضی میں اس آتش فشاں کی حرارت نے مریخ کی آب و ہوا پر اثر ڈالا یا زیرِ سطح مائع پانی کے عارضی ماحول پیدا کیے، جہاں زندگی کے لیے موزوں حالات موجود ہو سکتے تھے۔ یہ معلومات مریخ کی ارضیاتی تاریخ اور اس پر ممکنہ قابلِ رہائش ماحول کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اولمپس مونس کا مطالعہ نہ صرف مریخ بلکہ دیگر چٹانی سیاروں پر آتش فشانی سرگرمیوں اور ان کے ارتقا کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل کے مریخی خلائی مشنز اور جدید مدار گرد خلائی جہاز اولمپس مونس کی ساخت، تاریخ اور ارتقا کے بارے میں مزید حیرت انگیز راز سامنے لائیں گے۔
