لاہور، 10 اپریل 2026ء — پنجاب حکومت نے سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے پولیس کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک خصوصی پنجاب سائبر کرائم یونٹ کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور شہریوں کی نجی معلومات کی خلاف ورزی جیسے بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانا ہے، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں خواتین اور بچے متاثر ہو رہے ہوں۔
اس فیصلے کی خاص بات صرف ایک نئے یونٹ کا قیام نہیں بلکہ شکایت کے نظام کو زیادہ آسان اور متاثرہ فرد کے لیے کم تکلیف دہ بنانا بھی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق آن لائن ہراسانی یا بلیک میلنگ کا شکار بچوں کو اب ضروری نہیں ہوگا کہ وہ شکایت درج کرانے کے لیے خود تھانے یا سرکاری دفتر جائیں۔ اس مقصد کے لیے موبائل شکایتی یونٹس متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ ورچوئل شکایت درج کرانے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس خدمت مراکز کے ذریعے بھی شکایات وصول کی جائیں گی۔ بظاہر یہ قدم ایسے خاندانوں کے لیے خاصا اہم ثابت ہو سکتا ہے جو حساس نوعیت کے معاملات میں روایتی طریقہ کار سے ہچکچاتے ہیں۔
حکام نے اس اقدام کو ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ قرار دیا ہے۔ منصوبے کے تحت پنجاب پولیس سائبر پٹرول ونگ اور ایک سائبر پولیس اکیڈمی بھی قائم کی جائے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت صرف شکایات وصول کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ ڈیجیٹل جرائم کی نگرانی، تفتیش اور متعلقہ اہلکاروں کی خصوصی تربیت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی شہریوں کی نجی زندگی اور پرائیویسی کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبائی حکومت اس اقدام کو سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر بڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف براہِ راست ردعمل قرار دے رہی ہے۔ خاص طور پر آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور استحصال ایسے مسائل ہیں جن میں متاثرین اکثر یہ طے نہیں کر پاتے کہ شکایت کہاں درج کرائی جائے اور آیا ان کی بات سنجیدگی سے سنی بھی جائے گی یا نہیں۔
تاہم اس سارے معاملے میں ایک قانونی پہلو بھی اہم ہے۔ پاکستان میں سائبر کرائم سے متعلق باقاعدہ تفتیش اور مقدمات کے اندراج کا نظام اب بھی قومی سطح کے قانونی ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب کا نیا نظام شکایت درج کرانے، ابتدائی ردعمل اور متاثرین کو سہولت دینے میں مددگار ہو سکتا ہے، لیکن سائبر کرائم مقدمات کی باقاعدہ قانونی کارروائی اور پراسیکیوشن بدستور قومی سطح کے فریم ورک کے تحت ہی آگے بڑھے گی۔ یہی وہ نکتہ ہے جو آنے والے دنوں میں سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔
عام شہری کے لیے اس فیصلے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پنجاب حکومت ایک ایسا ابتدائی نظام قائم کرنا چاہتی ہے جو زیادہ قابلِ رسائی ہو، کم خوفزدہ کرنے والا ہو اور حساس نوعیت کے معاملات میں متاثرین کو نسبتاً محفوظ ماحول دے۔ دوسری طرف، ملک کا موجودہ قانونی ڈھانچہ سائبر کرائم کی باضابطہ تفتیش کے لیے اپنی جگہ موجود رہے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ دونوں سطحیں آپس میں کتنی مؤثر ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتی ہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آن لائن فراڈ، جعلی شناخت، ڈیجیٹل بلیک میلنگ اور نجی معلومات کے غلط استعمال جیسے جرائم تیزی سے عوامی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ خواتین اور بچوں کے خلاف ایسے واقعات نے اس مسئلے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پنجاب حکومت کا موجودہ جواب یہی ہے کہ پولیس کو شکایت کے عمل کے زیادہ قریب لایا جائے اور متاثرین کے لیے رپورٹنگ کا عمل نسبتاً آسان بنایا جائے۔ لیکن آیا اس سے واقعی تیز رفتار گرفتاریاں، مضبوط مقدمات اور مؤثر روک تھام ممکن ہو سکے گی، اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔
