جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں جاری شدید سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھنے کی دعوت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی محاذ آرائی ریاست کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے اور اب کسی بھی فریق کے پاس ضد پر اڑے رہنے کی گنجائش نہیں بچی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ اگر سیاستدانوں نے خود اپنے مسائل حل نہ کیے تو "غیر سیاسی قوتیں” خلا پر کر سکتی ہیں۔ ان کا اشارہ واضح طور پر اسٹیبلشمنٹ کے کردار کی طرف تھا، جو ماضی میں بھی سیاسی بحرانوں کے دوران اثر انداز ہوتی رہی ہے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج وسیع تر ہوتی جا رہی ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف انتخابی نتائج کو ماننے سے انکاری ہے اور دوسری طرف حکومتی اتحاد اسے قانونی اور آئینی طور پر بند گلی قرار دے رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی کوشش ہے کہ وہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ایک متوازن ثالث کا کردار ادا کریں، تاکہ معاشی بحران اور داخلی عدم استحکام کے شکار ملک کو کچھ ریلیف مل سکے۔
تاہم، سیاسی مبصرین اس پیشکش کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ جے یو آئی (ف) حالیہ انتخابات میں اپنی نشستیں کھونے کے بعد اپنی سیاسی اہمیت کو دوبارہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومتی حلقوں نے ابھی تک اس پر کوئی ٹھوس ردعمل نہیں دیا، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس بات پر بضد ہیں کہ مذاکرات صرف اس صورت میں ہو سکتے ہیں جب ان کے مطالبات کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔
مولانا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم مزید انتشار کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ریاست کو بچانا ہے تو انا کے بت توڑنا ہوں گے۔” انہوں نے اس مکالمے کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل یا وقت کا تعین نہیں کیا، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ صرف ایک اخباری بیان ہے یا اس کے پیچھے کوئی پس پردہ رابطے بھی موجود ہیں۔
ملک کی موجودہ معاشی حالت اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں کے تناظر میں، سیاسی استحکام حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ لیکن جب تک حکومتی اتحاد اور اپوزیشن ایک دوسرے کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے، تب تک فضل الرحمان کا یہ فارمولا صرف ایک تجویز تک ہی محدود رہے گا۔ آنے والے چند دن بتائیں گے کہ کیا یہ جماعتیں ایک بار پھر تلخیاں بھلا کر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہیں یا پھر ملک اسی طرح سیاسی تعطل کی نذر رہے گا۔
