سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے حج سیزن 2027 سے 2030 تک کے لیے 3 لاکھ 8 ہزار سے زائد آن لائن رجسٹریشنز ریکارڈ کی ہیں۔ عازمین کی جانب سے اس پیشگی رجسٹریشن کا رجحان ظاہر کرتا ہے کہ اب لوگ آخری لمحات کی دوڑ دھوپ کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی کو ترجیح دے رہے ہیں۔
حج کے لیے مختص ڈیجیٹل پورٹل اب ملکی اور غیر ملکی عازمین کے لیے واحد راستہ بن چکا ہے۔ برسوں پہلے رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حکام کو بروقت اندازہ ہو سکے کہ ٹرانسپورٹ، رہائش اور ہجوم کے انتظام کے لیے کتنے وسائل درکار ہوں گے۔
عازمین کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ حج کوٹہ سختی سے نافذ ہے اور سرکاری پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن ہی قانونی راستہ ہے۔ 3 لاکھ 8 ہزار کا ہندسہ محض ارادے کی عکاسی نہیں کرتا، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عازمین اب حج کے پیچیدہ انتظامی معاملات کے لیے سعودی حکومت کے مرکزی الیکٹرانک نظام پر مکمل انحصار کر رہے ہیں۔
سعودی حکام گزشتہ چند سالوں سے بنیادی ڈھانچے پر اربوں خرچ کر رہے ہیں۔ مسجد الحرام کی توسیع اور مکہ و مدینہ کے درمیان ہائی اسپیڈ ریل کا نظام اسی بڑھتی ہوئی گنجائش کو سنبھالنے کے لیے بچھایا گیا ہے۔ تاہم، رجسٹریشن کے ابتدائی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ طلب اب بھی ان وسیع تر سہولیات سے کہیں زیادہ ہے۔
وزارت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ "یہ نظام شفافیت کے لیے بنایا گیا ہے۔” ان کا مقصد ان ایجنٹوں کا خاتمہ ہے جو ماضی میں عازمین کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے تھے۔ ٹیکنالوجی نے دھوکا دہی کے امکانات تو کم کر دیے ہیں، لیکن اس نے حج کے حصول کو ایک بڑی ڈیجیٹل قطار میں تبدیل کر دیا ہے۔
کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ "ڈیجیٹل تقسیم” ایک چیلنج ہے۔ بزرگ افراد یا ایسے علاقے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت کم ہے، ان کے لیے رجسٹریشن کا عمل مشکل ہو سکتا ہے۔ وزارت کا موقف ہے کہ وہ علاقائی دفاتر کے ذریعے ان لوگوں کی معاونت کر رہی ہے جنہیں ڈیجیٹل رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم موجودہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فی الحال ٹیکنالوجی سے واقف طبقہ ہی رجسٹریشن میں سب سے آگے ہے۔
جیسے جیسے 2027 کا سیزن قریب آئے گا، ان 3 لاکھ 8 ہزار رجسٹرڈ افراد کو دستاویزات کی تصدیق اور مالی جمع بندی کے اگلے مراحل سے گزرنا ہوگا۔ فی الحال، ان کے پاس ڈیجیٹل قطار میں اپنی جگہ تو محفوظ ہے، لیکن حج کے پیچیدہ عمل میں یہ صرف پہلا قدم ہے۔
