پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج کے لیے تیار کردہ ایک نئی تجرباتی دوا نے کلینیکل ٹرائل کے اہم اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ ‘نان-اسمال سیل لنگ کینسر’ کے مریضوں پر کیے گئے اس حتمی مرحلے کے ٹرائل میں دوا نے روایتی کیموتھراپی کے مقابلے میں بیماری کو پھیلنے سے روکنے اور مریضوں کی زندگی کے دورانیے کو بڑھانے میں نمایاں کامیابی دکھائی ہے۔
بدھ کو دوا ساز کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ پیش رفت ان مریضوں کے لیے ایک امید کی کرن ہے جو روایتی علاج کے تمام آپشنز آزما چکے ہیں۔ میٹاسٹیٹک کینسر (پھیل جانے والے کینسر) کے شکار افراد کے لیے یہ دوا بیماری کو کنٹرول کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ماہرِ امراضِ کینسر ڈاکٹر ایلینا روسی نے اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ "نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ اگرچہ یہ مکمل علاج کا دعویٰ نہیں، لیکن یہ ایک ایسی بیماری کے انتظام میں واضح پیش رفت ہے جس کا پھیلاؤ روکنا اب تک ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔”
اس ٹرائل میں دنیا بھر سے 600 سے زائد مریضوں کو شامل کیا گیا تھا۔ نتائج بتاتے ہیں کہ روایتی کیموتھراپی کے برعکس، اس نئی تھراپی سے گزرنے والے مریضوں میں شدید متلی اور جسمانی نقاہت جیسے ضمنی اثرات کم دیکھے گئے۔ تاہم، تحقیق کاروں نے خبردار کیا ہے کہ دوا کے استعمال سے کچھ مریضوں کے جگر کے انزائمز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے لیے علاج کے دوران سخت نگرانی ناگزیر ہے۔
اب ماہرین کی نظریں اس ڈیٹا کے اگلے مرحلے پر ہیں، جو آئندہ ماہ ایک اہم طبی کانفرنس میں پیش کیا جائے گا۔ طبی دنیا میں اصل معیار ‘اوور آل سروائیول’ (مریض کی مجموعی زندگی) کو مانا جاتا ہے، اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ دوا طویل مدت میں مریضوں کی زندگی کو کتنا طویل کر سکتی ہے۔
امریکی ادارہ برائے خوراک و ادویات کی جانب سے اس دوا کے جائزے کے عمل کو تیز کرنے کی توقع ہے، کیونکہ ٹرائل کے نتائج انتہائی مثبت رہے ہیں۔ منظوری ملنے کی صورت میں، یہ ان مریضوں کے لیے پہلا انتخاب بن سکتی ہے جن کے ٹیومر میں مخصوص جینیاتی تبدیلیاں موجود ہیں۔
طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت ‘پریسیژن آنکولوجی’ (مخصوص جینیاتی علاج) کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ ہر مریض کے جینیاتی پروفائل کے مطابق علاج کو کیسے ڈھالا جائے۔
اگرچہ دوا ساز کمپنی کے شیئرز میں اعلان کے بعد 4 فیصد اضافہ دیکھا گیا، لیکن اصل اہمیت کلینک میں موجود اس مریض کی ہے جو اب ایک نئی امید کے ساتھ علاج کروا سکے گا۔ جیسا کہ ایک محقق نے مختصر کہا: "اعداد و شمار اپنی جگہ، لیکن ایک مریض کے لیے یہ اپنی زندگی کے کچھ مزید ماہ یا سال حاصل کرنے کا حقیقی موقع ہے۔”
