افغانستان کے مختلف صوبوں میں شدید موسمی بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں نے کم از کم 23 افراد کی جان لے لی ہے۔ جمعرات کی شب شروع ہونے والی اس تباہ کاری نے ان دیہی علاقوں کو شدید متاثر کیا ہے جو پہلے ہی دہائیوں پر محیط تنازعات اور معاشی بحران کی زد میں ہیں۔
مرکزی اور شمالی صوبوں کے دور دراز علاقوں میں امدادی ٹیموں کے پہنچنے کے ساتھ ہی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے حکام کے مطابق درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ سینکڑوں کچے مکانات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
صوبہ غور کے ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ پانی پہاڑوں سے کسی دیوار کی طرح نیچے اترا۔ ان کے بقول، "ہمارے پاس اپنے مویشیوں یا اناج کے ذخیروں کو بچانے کا موقع تک نہیں ملا۔”
ان دیہی علاقوں میں آباد خاندانوں کے لیے یہ نقصان ناقابلِ تلافی ہے۔ سیلاب نے نہ صرف انسانی جانیں لیں بلکہ فصلیں اور آبپاشی کا محدود نظام بھی بہا لے گئے۔ افغانستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے، لہذا اس تباہی کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو طویل مدتی غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امدادی کارروائیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ تباہ شدہ سڑکیں اور ٹوٹے ہوئے پل ہیں۔ طالبان انتظامیہ کا محکمہ برائے انسدادِ آفات اپنی محدود وسائل کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ان کے پاس پہاڑی راستوں سے ملبہ ہٹانے والی بھاری مشینری اور طبی آلات کی شدید کمی ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو بھی بحالی کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ خواتین امدادی کارکنوں پر کام کرنے کی پابندی نے ہنگامی امداد کی فراہمی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث متاثرہ خاندانوں کو امداد ملنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
افغانستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اگرچہ عالمی کاربن کے اخراج میں اس ملک کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن شدید موسمی تغیرات یہاں معمول بن چکے ہیں۔ اس سال بے ہنگم بارشوں نے پہلے سے خشک زمین کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے، جس کے باعث مٹی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔
آئندہ ہفتے مزید بارشوں کی پیش گوئی نے حکام اور متاثرین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ عارضی کیمپوں میں پناہ لینے والے یا رشتہ داروں کے گھروں میں منتقل ہونے والے متاثرین کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج زندہ رہنا ہے، جبکہ مستقبل میں اپنی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔
