یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو کے محققین نے الزائمر کے مریضوں میں نیند کے معمولات کو بحال کرنے کے لیے دماغی خلیات کے ایک مخصوص نیٹ ورک کی نشاندہی کی ہے۔ ‘نیچر نیورو سائنس’ میں شائع ہونے والی یہ تحقیق بتاتی ہے کہ ہائپوتھیلمس میں موجود نیورونز کے ایک جھرمٹ کو متحرک کر کے دماغ کی اندرونی گھڑی کو دوبارہ ترتیب دیا جا سکتا ہے، جو عام طور پر الزائمر کے دوران تباہ ہو جاتی ہے۔
طبی ماہرین طویل عرصے سے نیند کی خرابی کو الزائمر کی محض ایک علامت سمجھتے رہے ہیں، لیکن اب اسے بیماری کو بڑھانے والے بنیادی محرک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مسلسل بے خوابی دماغ میں زہریلے پروٹینز کے جمع ہونے کے عمل کو تیز کرتی ہے، جس سے ذہنی تنزلی کا دائرہ مزید وسیع ہو جاتا ہے۔ محققین نے تجرباتی ماڈلز میں اس ‘سلیپ-ویک’ سوئچ کو نشانہ بنا کر گہری نیند کے دورانیے کو بڑھانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
تحقیق کے مرکزی محقق کا کہنا ہے، "ہم صرف علامت کا علاج نہیں کر رہے، بلکہ ہم اس میکانزم کو فعال کر رہے ہیں جو دماغ کے صفائی کے نظام کو رواں رکھتا ہے۔” ٹیم نے آپٹو جینیٹکس کی مدد سے ان مخصوص نیورونز کا تعین کیا جو گہری، پرسکون نیند کے لیے ذمہ دار ہیں۔
یہ نتائج موجودہ طبی طریقہ کار کے لیے ایک چیلنج ہیں۔ فی الحال ڈیمنشیا کے مریضوں کی نیند کے لیے جو ادویات استعمال کی جاتی ہیں، وہ اکثر شدید ضمنی اثرات کا باعث بنتی ہیں، جن میں الجھن اور گرنے کے خطرات شامل ہیں۔ اس کے برعکس، یہ نئی تکنیک نیورو-موڈیولیشن پر مرکوز ہے، جس کا مقصد دماغ کو زبردستی سلانے کے بجائے اس کی قدرتی تال کو بحال کرنا ہے۔
انسانی سطح پر اس کے اطلاق کی راہ ابھی طویل ہے۔ محققین اب ایسے غیر جارحانہ طریقوں پر کام کر رہے ہیں جن سے انسانی دماغ میں ان مخصوص نیورونز کو متحرک کیا جا سکے۔ فی الحال ڈیپ برین اسٹیمولیشن ایک پیچیدہ عمل ہے، لہذا سائنسدان الٹراساؤنڈ یا ایسی دواؤں پر غور کر رہے ہیں جو اسی نیورل ایکٹیویشن کی نقل کر سکیں۔
اگر یہ تجربات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ الزائمر کے علاج میں ایک بنیادی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ نیند کی بحالی شاید اس بیماری کا مکمل علاج نہ ہو، لیکن یہ دماغ کو ان پروٹینز کو صاف کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے جو تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ اس طرح بیماری کو ہلکی ذہنی کمزوری سے شدید ڈیمنشیا میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
فی الحال، یہ تحقیق اس ایک اہم ترین انسانی فعل کو واپس حاصل کرنے کا ایک ٹھوس روڈ میپ پیش کرتی ہے جو الزائمر کے مریض کھو دیتے ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسانی دماغ کا یہ ہائپوتھیلمک سوئچ تجربہ گاہ کے نتائج کی طرح مؤثر ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔
