سندھ پولیس نے صوبے میں جدید ڈیجیٹل فرانزک لیب کے قیام کا مطالبہ تیز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل شواہد کی جانچ پڑتال کے لیے مرکزی یا بیرونی سہولیات پر انحصار کرنے کے باعث تفتیشی عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور مجرمانہ کیسز کے فیصلوں میں تاخیر معمول بن چکی ہے۔
محکمہ پولیس کے ذرائع کے مطابق، موجودہ نظام کے تحت قبضے میں لیے گئے موبائل فونز اور لیپ ٹاپس کو فرانزک تجزیے کے لیے دیگر اداروں کو بھیجا جاتا ہے۔ اس عمل میں اکثر مہینوں لگ جاتے ہیں۔ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران شواہد کی بروقت فراہمی نہ ہونا ملزمان کی بریت کا سبب بنتا ہے۔
صوبے میں سائبر کرائم، مالیاتی فراڈ اور ڈیجیٹل بھتہ خوری کے واقعات میں اضافے کے بعد اس لیب کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ مقامی سطح پر سہولت نہ ہونے سے تفتیشی ٹیمیں جدید جرائم کے مقابلے میں خود کو بے بس محسوس کرتی ہیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر محکمہ تفتیش کے ایک سینئر افسر نے بتایا، "ہم اکیسویں صدی کے جرائم کا مقابلہ بیسویں صدی کے انفراسٹرکچر سے کر رہے ہیں۔ جب ہم کسی چھاپے کے دوران ڈیجیٹل ڈیوائس قبضے میں لیتے ہیں تو وہ ہمارے لیے ایک بند ڈبہ ہوتی ہے۔ ہم نہ تو ڈیٹا نکال سکتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسری ایجنسی کی رپورٹ کا چھ ماہ تک انتظار کر سکتے ہیں۔”
مجوزہ لیب کے قیام سے سندھ پولیس اپنے طور پر ڈیٹا ریکوری، انکرپشن اینالائسز اور میلویئر کی تحقیقات کر سکے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف مقدمات کی سماعت تیز ہوگی بلکہ ‘چین آف کسٹڈی’ (شواہد کی حفاظت) کا معیار بھی بہتر ہوگا، جو اکثر ہائی پروفائل کیسز میں دفاعی وکلاء کا بنیادی نکتہ ہوتا ہے۔
صوبائی حکومت نے تکنیکی خلا کو تسلیم تو کیا ہے، تاہم فنڈز کی فراہمی اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جدید فرانزک سافٹ ویئر، ہارڈ ویئر کی خریداری اور سائبر ماہرین کی تربیت کے لیے خطیر رقم درکار ہے، جس کی منظوری تاحال صوبائی بجٹ میں نہیں دی جا سکی ہے۔
فی الحال کراچی سمیت پورے صوبے کے تفتیشی افسران زیر التوا مقدمات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اگر ڈیجیٹل شواہد کو پروسیس کرنے کے لیے مقامی سطح پر لیب قائم نہ کی گئی تو مجرموں تک پہنچنے کا عمل بدستور بیرونی اداروں کی سست روی اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کا شکار رہے گا۔
