کراچی میں سات سالہ اذان کے اغوا کے بعد بازیابی کے معاملے پر سوشل میڈیا پر جاری قیاس آرائیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، تاہم بچے کی والدہ نے ان تمام دعووں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں اس واقعے کو ‘من گھڑت ڈرامہ’ قرار دیا جا رہا تھا۔
شمالی ناظم آباد سے بچے کے اچانک لاپتہ ہونے اور پھر بازیابی کے بعد سے شہر میں مختلف حلقوں کی جانب سے واقعے کے حالات و واقعات پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر ایک طبقے کا دعویٰ تھا کہ یہ پورا واقعہ پہلے سے طے شدہ (اسکرپٹڈ) تھا۔
بدھ کے روز اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اذان کی والدہ نے انتہائی رنجیدہ لہجے میں کہا، "میں ایک ماں ہوں جس نے گھنٹوں دہشت اور خوف میں گزارے، کوئی اسکرپٹ رائٹر نہیں۔ اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر تبصرہ کرنے والوں کو اندازہ نہیں کہ بچہ کھونے کا دکھ کیا ہوتا ہے، اب میرے زخموں پر نمک پاشی کی جا رہی ہے۔”
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق، شکوک و شبہات کی بنیادی وجہ بازیابی کے وقت پولیس کی جانب سے دیے گئے بیانات میں تضاد ہے۔ جہاں پولیس حکام نے پہلے اسے ایک کامیاب آپریشن قرار دیا تھا، وہیں بعد میں سامنے آنے والی تفصیلات میں بازیابی کے مقامات اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے، جسے ناقدین نے مشکوک قرار دیا۔
ڈسٹرکٹ ویسٹ کی پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش ابھی جاری ہے۔ حکام اس روٹ پر لگے تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں جہاں سے بچہ غائب ہوا تھا۔ تفتیش کاروں کا مقصد یہ تعین کرنا ہے کہ آیا یہ اغوا کسی منظم گروہ کی کارروائی تھی یا کوئی اتفاقیہ واقعہ۔
اس تمام صورتحال کے باوجود، خاندان کا موقف ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی ‘غلط معلومات’ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ خاندان کے وکیل نے واضح کیا کہ ہتک عزت کے مقدمات دائر کیے جائیں گے تاکہ اس ‘بے بنیاد پروپیگنڈے’ کو روکا جا سکے۔
فی الحال، پولیس کی ایک ٹیم متاثرہ خاندان کی رہائش گاہ پر تعینات ہے اور سات سالہ اذان کی کونسلنگ کی جا رہی ہے تاکہ وہ اس صدمے سے باہر آ سکے۔ پولیس کی حتمی رپورٹ ہی یہ طے کرے گی کہ یہ واقعہ کسی مجرمانہ گروہ کی کارستانی تھی یا کچھ اور، لیکن خاندان کا اصرار ہے کہ ان کی تکلیف حقیقی تھی، اور ان پر لگائے گئے الزامات زخموں پر کاری ضرب ہیں۔
