مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے ابھرنے والی چینی کمپنی ڈیپ سیٹ نے اپنی نئی فنڈنگ مہم کو فی الحال روک دیا ہے۔ کمپنی نے رواں ہفتے ممکنہ سرمایہ کاروں کو اس فیصلے سے آگاہ کیا ہے، جس کا مقصد بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی دباؤ اور ریگولیٹری چیلنجز کے درمیان اپنی حکمت عملی کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈیپ سیٹ کے ماڈل نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی تھی۔ اس ماڈل نے کم لاگت میں اعلیٰ کارکردگی دکھا کر دنیا بھر کے ٹیک ماہرین کو حیران کر دیا تھا، جس کے بعد امریکی چپ ساز کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی تھی۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ ڈیپ سیٹ نے کمپیوٹنگ کے محدود وسائل کے باوجود بڑی پیش رفت حاصل کر لی ہے۔
تاہم، اس غیر معمولی کامیابی نے کمپنی کے لیے مشکلات بھی کھڑی کر دی ہیں۔
ڈیپ سیٹ کی انتظامیہ نے ممکنہ سرمایہ کاروں کو بتایا کہ موجودہ حالات میں پیش رفت کی واضح راہ تلاش کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ امریکی برآمدی کنٹرول اور چین کے اپنے ریگولیٹری اداروں کی جانب سے ٹیکنالوجی سیکٹر پر بڑھتی ہوئی گرفت ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان کی کور ٹیکنالوجی مستحکم ہے، لیکن اصل چیلنج آپریشنز کو وسیع کرنے کے لیے درکار ہارڈ ویئر کا حصول ہے۔
صنعت کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ فنڈنگ روکنے کا یہ فیصلہ محض کاروباری نہیں بلکہ سفارتی بھی ہے۔ واشنگٹن میں پہلے ہی اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا ڈیپ سیٹ امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے یا نہیں۔ ایسے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو محدود کر کے کمپنی ممکنہ طور پر امریکی حکام کی نظروں سے دور رہنا چاہتی ہے۔
فی الحال، ڈیپ سیٹ کی توجہ اپنی اندرونی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ یہ وقفہ ایک عارضی حکمت عملی ہے یا کسی بڑے ساختی بحران کا پیش خیمہ، یہ وہ سوال ہے جس نے ان وینچر کیپیٹل فرموں کو تشویش میں ڈال دیا ہے جو کچھ عرصہ قبل تک اس کمپنی میں سرمایہ کاری کے لیے قطار میں کھڑی تھیں۔
کبھی جارحانہ توسیع کے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے والی ڈیپ سیٹ اب ایک محتاط اور دفاعی پوزیشن اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
