ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال نے کراچی میں شہری حقوق کے لیے باقاعدہ تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ 26 جولائی سے کراچی اور سندھ کے دیگر شہری مراکز میں احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارٹی کے اندرونی حلقوں اور کارکنوں کی جانب سے شہری مسائل پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا تھا۔ کراچی، جو ملک کا معاشی حب ہے، طویل عرصے سے بنیادی سہولیات کے فقدان اور انتظامی تعطل کا شکار ہے، جس کی بازگشت اب سڑکوں پر سنائی دے گی۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق یہ تحریک محض بیان بازی تک محدود نہیں رہے گی۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے شہری انفراسٹرکچر کی ابتری، پانی کی غیر منصفانہ تقسیم اور بلدیاتی اختیارات کی عدم منتقلی کو اس فیصلے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
مصطفیٰ کمال نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ "ہم اب صوبائی انتظامیہ کے رحم و کرم پر نہیں رہ سکتے۔ شہر کے عوام ایک ناکام نظام کی قیمت چکانے پر مجبور ہیں۔”
سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک اس احتجاج کی ٹائمنگ انتہائی اہم ہے۔ 2018 اور 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے ایم کیو ایم پاکستان کراچی میں اپنا کھویا ہوا سیاسی اثر و رسوخ بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کی حکمت عملی یہ ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا بیانیہ اپنا کر کراچی کے ووٹرز کو دوبارہ متحرک کیا جائے۔
دوسری جانب ناقدین کا ماننا ہے کہ ایم کیو ایم کا یہ اقدام حالیہ انتخابی شکستوں سے توجہ ہٹانے اور صوبائی حکومت پر ترقیاتی فنڈز میں حصہ بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ماضی میں بلدیاتی اختیارات کے باوجود شہر کی حالتِ زار میں بہتری نہیں آ سکی تھی۔
26 جولائی کو ہونے والا احتجاج شہر کی اہم شاہراہوں پر مرکوز رہنے کا امکان ہے۔ پارٹی قیادت نے اشارہ دیا ہے کہ یہ احتجاجی مہم کا پہلا مرحلہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ احتجاج عملی پالیسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے یا صرف ایک وقتی دباؤ کا حربہ بن کر رہ جاتا ہے۔
فی الحال ایم کیو ایم پاکستان نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے: وہ اب سمجھوتوں کے بجائے سڑکوں پر نکل کر اپنے مطالبات منوانے کی راہ پر گامزن ہے۔
