کراچی — پاکستان پیپلز پارٹی نے منگل کے روز سندھ بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے، جس کا مقصد دریائے سندھ کے پانی پر بھارت کے حالیہ بیانات اور آبی جارحیت کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کرنا تھا۔ کراچی، حیدرآباد اور سکھر سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں کارکنوں نے سڑکوں پر نکل کر بھارتی موقف کو پاکستان کی زرعی معیشت پر حملہ قرار دیا۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے پر نظر ثانی یا اسے تبدیل کرنے کے اشارے مل رہے ہیں۔ اسلام آباد میں حکومتی حلقے اسے پاکستان کے آبی حقوق پر ایک براہ راست خطرہ تصور کر رہے ہیں۔
کراچی میں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی کے رہنما نثار کھوڑو نے کہا کہ "ہم اپنے سرسبز کھیتوں کو ریگستان میں بدلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔” انہوں نے اگرچہ کسی مخصوص جوابی لائحہ عمل کی تفصیلات نہیں بتائیں، لیکن پارٹی کے اس عزم کو واضح کیا کہ پانی کا مسئلہ اب قومی ایجنڈے میں سرفہرست رہے گا۔
سندھ کے لیے یہ معاملہ بقا کی جنگ ہے۔ صوبہ سندھ دریائے سندھ کے نچلے حصے میں واقع ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے کاشتکار پانی کے بہاؤ میں کسی بھی کمی کے لیے سب سے زیادہ حساس ہیں۔ صوبے میں پانی کی قلت پہلے ہی ایک مستقل بحران ہے؛ ایسے میں بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ صرف ایک سفارتی تنازع نہیں، بلکہ لاکھوں کسانوں کی روزی روٹی پر براہ راست ضرب ہے۔
احتجاج کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو صوبائی حکومت اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ تاہم، پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے یہ ریلیاں دوہرے مقصد کی حامل ہیں: صوبائی حقوق کے محافظ کے طور پر اپنی ساکھ کو مضبوط کرنا اور وفاقی حکومت پر زور ڈالنا کہ وہ بھارت کے ساتھ اس معاملے پر زیادہ سخت موقف اختیار کرے۔
ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ تین جنگوں اور دہائیوں کی کشیدگی کے باوجود قائم ہے۔ یہ دونوں ایٹمی قوتوں کے درمیان رابطے کا واحد فعال ذریعہ ہے۔ اگر بھارت اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ خطے میں ایک ایسے بحران کو جنم دے گا جس کے اثرات سندھ کی نہروں سے کہیں دور تک محسوس کیے جائیں گے۔
اگرچہ سڑکوں پر احتجاج کا شور عروج پر ہے، لیکن اس کا حتمی حل انڈس واٹر کمشنرز کے پاس ہے۔ دونوں ممالک فی الحال کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے ڈیزائن پر قانونی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔
احتجاج کے اختتام پر پارٹی قیادت نے خبردار کیا کہ یہ ریلیاں محض شروعات ہیں۔ فصلوں کی کاشت کا موسم قریب ہے اور پانی کا بحران جلد ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اسلام آباد اور نئی دہلی کی مذاکراتی میزوں پر چھائی خاموشی اب سندھ کے کسانوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے۔
