لاہور میں پیش آنے والے دست درازی کے ہائی پروفائل کیس کی مرکزی کردار غیر ملکی خواتین مبینہ طور پر پاکستان سے روانہ ہو چکی ہیں۔ معاملے سے باخبر ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد سے حکام کا ان خواتین سے رابطہ منقطع ہے، جس کے باعث قانونی کارروائی کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
پولیس کی تفتیشی ٹیمیں واقعے کے بعد سے ان خواتین کے بیانات ریکارڈ کرنے کی کوشش میں تھیں، لیکن اطلاعات کے مطابق یہ دونوں خواتین ابتدائی رپورٹ درج ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد شہر سے نکل گئیں۔ ان کی روانگی نے حراست میں موجود ملزمان کے خلاف قانونی عمل کو ایک پیچیدہ موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
یہ کیس اس وقت منظر عام پر آیا جب واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ کلپس میں خواتین کو عوامی مقام پر ہراساں اور دست درازی کا نشانہ بنتے دیکھا گیا، جس کے بعد سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ پولیس نے عوامی دباؤ کے پیش نظر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملوث چند افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔
ملزمان کی گرفتاری کے باوجود، مرکزی شکایت کنندگان کی عدم موجودگی استغاثہ کے لیے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ پاکستانی عدالتی نظام میں متاثرہ فریق کی گواہی سزا سنانے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ وکلاء کا ماننا ہے کہ اگر متاثرہ خواتین عدالت میں پیش نہیں ہوتیں تو ملزمان کے وکلاء ضمانت یا کیس کے اخراج کے لیے مضبوط دلائل دے سکتے ہیں، کیونکہ بنیادی شہادت کا فقدان استغاثہ کے کیس کو کمزور کر دیتا ہے۔
ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، لیکن شکایت کنندگان کی موجودہ حیثیت تفتیش میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔” انہوں نے خواتین کے ملک سے باہر جانے کی تاریخ کی تصدیق کرنے سے گریز کیا اور اسے تفتیشی عمل کی حساسیت قرار دیا۔
اس واقعے نے پنجاب بھر میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک پرانی بحث کو دوبارہ ہوا دی ہے۔ اگرچہ حکومت نے ملزمان کو سخت سزا دلوانے کا عزم ظاہر کیا ہے، لیکن خواتین کی اچانک روانگی اس بات کا اشارہ ہے کہ شاید وہ مقامی عدالتی عمل پر اعتماد نہیں رکھتیں یا میڈیا کی شدید توجہ اور طویل قانونی کارروائی سے بچنا چاہتی ہیں۔
اگر یہ خواتین باضابطہ گواہی کے لیے واپس نہیں آتیں، تو ریاستی کیس کا تمام تر انحصار ڈیجیٹل شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات پر ہوگا۔ فی الحال ملزمان جیل میں ہیں، لیکن کیس کی وہ رفتار جو ابتدائی دنوں میں دکھائی دی تھی، اب ماند پڑتی جا رہی ہے۔
