اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے اضافی محصولات جمع کرنے کی غرض سے منی بجٹ لانے پر غور شروع کردیا ہے، جس میں لگژری اشیا، گاڑیوں، سگریٹ، الیکٹرانک مصنوعات اور ایک ہزار ایک سو سے زائد درآمدی اشیا پر نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت منگل کو اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں "سیلاب لیوی بل” کا جائزہ لیا گیا۔ اس بل کے ذریعے کم از کم 50 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف ہے تاہم حتمی تخمینہ اس سے زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔ حکومت کو جولائی اور اگست میں محصولات میں 40 ارب روپے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ ستمبر کے آخر تک یہ خسارہ 100 ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جس کی بڑی وجہ حالیہ تباہ کن سیلاب بتایا جا رہا ہے۔
منصوبے کے تحت 1800 سی سی سے زائد انجن والی گاڑیوں اور دیگر قیمتی اشیا پر ٹیکس عائد کیا جائے گا تاکہ زیادہ تر بوجھ خوشحال طبقے پر ڈالا جا سکے۔ گاڑیوں کی صنعت کے نمائندوں کے مطابق اس وقت بھی گاڑیوں کی قیمت کا 30 سے 61 فیصد حصہ مختلف حکومتی ٹیکسز پر مشتمل ہے۔ سگریٹ، لگژری مصنوعات اور مخصوص الیکٹرانکس پر بھی اضافی ڈیوٹی عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت جون میں درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے فیصلے کو واپس نہیں لے سکتی، اس لیے وزارت خزانہ اس کمی کے برابر ایک نیا لیوی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تجویز کو آئی ایم ایف کو منوانا ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔ اجلاس میں بعض حکام نے وفاقی سطح پر اس نوعیت کے ٹیکس کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت اخراجات میں کمی کرنے کے بجائے بار بار نئے ٹیکسوں پر انحصار کر رہی ہے۔
انسانی ہمدردی کے پہلو سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت وزیر اعظم کی سیلاب نقصانات سے متعلق کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔ احسن اقبال نے کہا کہ نقصانات کا درست تخمینہ تب ہی ممکن ہوگا جب پانی اتر جائے گا۔ انہوں نے دس روز میں ابتدائی رپورٹ اور بعد ازاں صوبوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر جامع رپورٹ تیار کرنے کا وعدہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا قیاس آرائیوں سے گریز کرے، حکومت کی جانب سے ریلیف اور بحالی کی سرگرمیاں شفاف اعداد و شمار اور وفاقی و صوبائی اداروں کے مشترکہ تعاون کے تحت جاری ہیں۔
