کمبرلی: مغربی آسٹریلیا میں ماہرینِ جنگلی حیات نے خطرے سے دوچار ریڈ گوشاک کے گھونسلے دریافت کیے ہیں، جسے آسٹریلیا کے نایاب ترین شکاری پرندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ گھونسلے دور دراز کمبریلی خطے میں دریافت ہوئے، جن میں چارلی ریور آرٹیزین رینج وائلڈ لائف سینکچری اور ڈمبیمنگاری کنٹری کے علاقے شامل ہیں۔ ماہرین نے اس دریافت کو اہم پیش رفت قرار دیا ہے، کیونکہ ریڈ گوشاک کو دیکھنا ہی مشکل ہوتا ہے، اس کے گھونسلے تلاش کرنا اس سے بھی زیادہ نایاب بات ہے۔
ریڈ گوشاک کو آسٹریلیا کا نایاب ترین شکاری پرندہ کہا جاتا ہے۔ یہ اپنی مضبوط پرواز، سرخی مائل خوبصورت پروں اور دریاؤں و جنگلات کے قریب بڑے پرانے درختوں میں گھونسلہ بنانے کی عادت کے باعث پہچانا جاتا ہے۔ چونکہ یہ پرندہ وسیع اور دشوار گزار علاقوں میں رہتا ہے، اس لیے اس کے افزائشی مقامات کا سراغ لگانا ماہرین کے لیے ہمیشہ ایک مشکل کام رہا ہے۔
تحفظِ جنگلی حیات کی ٹیموں کے مطابق ان گھونسلوں کی دریافت سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ پرندے کہاں افزائش کرتے ہیں، کس قسم کے ماحول پر انحصار کرتے ہیں اور مستقبل میں ان کے تحفظ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں۔ تحفظ کے کام میں ایک گھونسلہ صرف گھونسلہ نہیں ہوتا؛ یہ پرندے کی خوراک، افزائش کے موسم، علاقے اور بقا کے لیے ضروری ماحول کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔
یہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کہ ریڈ گوشاک کی تعداد اس کے کئی قدرتی علاقوں میں کم ہو رہی ہے۔ رہائش گاہوں کا خاتمہ، آگ کے بدلتے ہوئے رجحانات، زمین کی صفائی اور بڑے گھونسلہ بنانے والے درختوں کی کمی اس پرندے کو درپیش بڑے خطرات میں شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق افزائشی مقامات کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ اگر گھونسلے تباہ ہو جائیں یا پرندوں کو افزائش کے دوران پریشان کیا جائے تو نایاب شکاری پرندوں کی آبادی بحال ہونا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ ایسے پرندے عموماً آہستہ افزائش کرتے ہیں اور بڑے علاقے کی ضرورت رکھتے ہیں۔
اس تلاش میں مقامی روایتی مالکان اور جنگلی حیات کے محققین نے اہم کردار ادا کیا۔ علاقے سے متعلق مقامی معلومات اور سائنسی نگرانی کو ملا کر ٹیموں نے ایسے مقامات کی نشاندہی کی جہاں ریڈ گوشاک کے گھونسلے موجود ہونے کا امکان تھا۔
اس دریافت سے امید پیدا ہوئی ہے کہ کمبریلی اور دیگر دور دراز علاقوں میں ریڈ گوشاک کے مزید افزائشی مقامات مل سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب مسلسل نگرانی ضروری ہوگی تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ گھونسلے فعال رہتے ہیں یا نہیں اور کیا ان سے بچے کامیابی سے پرواز کے قابل ہوتے ہیں۔
فی الحال یہ دریافت ایک ایسے پرندے کے لیے خوش آئند خبر ہے جو بقا کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ دور دراز قدرتی علاقوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے: کبھی کبھی ایک خطرے سے دوچار پرندے کی بقا ایک چھپے ہوئے گھونسلے کی تلاش سے شروع ہوتی ہے۔
