مظفرآباد: وفاقی حکومت کی مذاکراتی ٹیم اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہفتے کی شب ہونے والے مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوگئے، جس کے بعد جے اے اے سی نے 9 جون کی ہڑتال برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
مظفرآباد میں ہونے والی یہ نشست نو گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ دونوں فریقین نے مطالبات کے چارٹر کے تقریباً تمام نکات پر بات کی، تاہم تعطل آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کی اُن 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر برقرار رہا جو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر سے آئے پاکستان میں مقیم مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔
جے اے اے سی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہڑتال طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگی۔ ان کے مطابق حکومت سابقہ وعدوں پر عمل درآمد میں ناکام رہی ہے۔ متوقع احتجاج میں آزاد کشمیر بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال شامل ہوگی۔
وفاقی مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مذاکرات “ناکام” نہیں ہوئے اور 9 جون سے قبل کوششیں جاری رہیں گی۔ حکام نے مہاجر نشستوں کے معاملے پر اتفاقِ رائے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز بھی دی ہے۔
یہ تنازع اب محض معمول کی بات چیت تک محدود نہیں رہا۔ آزاد کشمیر میں جولائی کے آخر میں انتخابات متوقع ہیں، اور طویل احتجاج سیاسی سرگرمیوں، انتخابی مہم اور انتظامی تیاریوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
جے اے اے سی کا مؤقف ہے کہ مخصوص نشستوں کا معاملہ آئینی حقوق، عوامی نمائندگی اور خطے کے سیاسی ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس کی تحریک ریاستی وسائل، روزگار، تعلیم، مہاجر پالیسی اور اراضی الاٹمنٹ جیسے وسیع تر مسائل کا بھی احاطہ کرتی ہے۔
اس سے قبل مذاکرات کے ادوار گزشتہ سال مہنگائی، بجلی نرخوں اور آٹے کی سبسڈی کے خلاف احتجاج کے بعد طے پانے والے 37 نکاتی معاہدے پر عمل درآمد کے گرد گھومتے رہے۔ حکومتی حکام کہتے ہیں کہ کئی نکات پر عمل ہو چکا یا جاری ہے، مگر جے اے اے سی کے مطابق بنیادی وعدے ابھی تک پورے نہیں کیے گئے۔
فی الحال دباؤ دوبارہ حکومت پر ہے۔ اگر آئندہ مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو 9 جون کو آزاد کشمیر ایک بار پھر مفلوج ہو سکتا ہے۔
