وفاقی حکومت نے ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے باضابطہ طور پر مالیاتی مشیر مقرر کر دیا ہے۔ نجکاری کمیشن نے ایک کنسورشیم کے انتخاب کی تصدیق کر دی ہے، جس سے اس ادارے میں حکومتی حصص کی فروخت کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسلام آباد پر بین الاقوامی قرض دہندگان کا دباؤ ہے کہ وہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں سے جان چھڑائے۔ ایچ بی ایف سی ایل، جو طویل عرصے سے انتظامی مسائل اور مارکیٹ میں سکڑتے ہوئے کردار کا سامنا کر رہی ہے، اب نجکاری کی فہرست میں سرفہرست ہے۔ مشیر کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ کمپنی کی مالیت کا تعین کرے، ممکنہ خریداروں کو تلاش کرے اور فروخت کے لیے قانونی ڈھانچہ تیار کرے تاکہ قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
حکومت کے لیے یہ اپنی اصلاحاتی پالیسی کا ایک بڑا امتحان ہے۔ ماضی میں بھی ایچ بی ایف سی ایل کی نجکاری کے اعلانات کیے گئے، لیکن سیاسی دباؤ اور لیبر یونینز کی مخالفت کے باعث یہ عمل ہمیشہ کھٹائی میں پڑا۔ موجودہ حکومت کا موقف ہے کہ اب غیر منافع بخش اثاثوں کو سبسڈی دینے کی گنجائش نہیں بچی۔
دوسری جانب معاشی ماہرین محتاط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سود کی بلند شرح کے اس دور میں کسی مالیاتی ادارے کو فروخت کرنا ‘کم قیمت’ پر اثاثے بیچنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ ماہرین متنبہ کر رہے ہیں کہ اگر ملازمین کے تحفظ اور بینک کے پرانے قرضوں کی وصولی کا واضح لائحہ عمل نہ بنایا گیا تو یہ عمل مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
نجکاری کمیشن نے فی الحال معاہدے کی مالیت یا کنسورشیم کے ارکان کے نام ظاہر نہیں کیے، جس کی وجہ رازداری کے پروٹوکولز بتائے گئے ہیں۔ وزارت خزانہ کے حکام کا دعویٰ ہے کہ عمل شفاف ہوگا اور بین الاقوامی سطح پر بولی کے ذریعے قابل اعتماد سرمایہ کاروں کو لایا جائے گا۔
آنے والے چند ماہ انتہائی اہم ہوں گے۔ حکومت صرف ایک ہاؤسنگ فنانس کمپنی نہیں بیچ رہی، بلکہ عالمی منڈیوں کو یہ پیغام بھی دے رہی ہے کہ وہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے لیے سنجیدہ ہے۔ کیا یہ نجکاری کامیاب ہوگی یا ماضی کی طرح التوا کا شکار؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ مالیاتی مشیر ان قانونی پیچیدگیوں کو کتنی تیزی سے حل کرتا ہے جنہوں نے اس عمل کو برسوں سے جام کر رکھا تھا۔
حکومت نے ابھی تک فروخت کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، تاہم مشیر کی تقرری سے یہ واضح ہے کہ وقت کا پہیہ اب چل پڑا ہے۔ ایچ بی ایف سی ایل کے لیے سرکاری سرپرستی کا دور اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔
