جامشورو کے علاقے لکھڑا میں منگل کی صبح کوئلے کی کان کا ایک حصہ گرنے سے دو کان کن ہلاک ہو گئے۔ امدادی ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد ملبے سے دونوں افراد کی لاشیں نکالیں۔ حادثہ زیر زمین سرنگ کی چھت گرنے سے پیش آیا۔
جاں بحق ہونے والے افراد کا تعلق مقامی مزدور طبقے سے تھا جو نجی ملکیت کی کان میں کام کر رہے تھے۔ اگرچہ حادثے کی حتمی وجہ جانچ کے بعد سامنے آئے گی، تاہم مقامی مائننگ یونینز نے کانوں میں حفاظتی آلات کے فقدان اور ناقص وینٹیلیشن کو ان حادثات کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
کان کی دور دراز لوکیشن اور سرنگ کے غیر مستحکم ڈھانچے کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جب تک امدادی ٹیمیں ملبے تک پہنچیں، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
لکھڑا کول فیلڈ صوبے میں توانائی کا ایک اہم مرکز ہے، لیکن یہاں حفاظتی معیارات پر ہمیشہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ حکومتی ضوابط کے باوجود، کئی نجی ٹھیکیدار لازمی انسپکشن اور حفاظتی پروٹوکولز کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ سانحہ کوئی نئی بات نہیں؛ لیبر حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب تک قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہیں ہوگا، ایسے واقعات کو روکنا ناممکن ہے۔
مقامی انتظامیہ نے کان کے انتظام کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی حادثے کا باعث بنی یا نہیں۔ لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
اس واقعے نے صوبائی محکمہ لیبر کی کارکردگی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کان کنوں کی زندگیوں کو ترجیح دینے کے بجائے، انتظامیہ مزید کتنی جانوں کے ضیاع کا انتظار کرے گی؟
