اسلام آباد — حکومتِ پاکستان نے سمندر پار روزگار کے شعبے میں ایک بڑی تزویراتی پیش رفت کرتے ہوئے سعودی عرب میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2034 کے پراجیکٹس کے لیے 3 لاکھ سے 4 لاکھ تربیت یافتہ کارکنوں کی برآمد کا ایک جامع ہدف مقرر کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینا اور عالمی منڈی میں پاکستانی افرادی قوت کی ساکھ کو بہتر بنانا ہے۔
وزارتِ افرادی قوت کی دستاویزات کے مطابق، حکومت نے اپنے فنی اور پیشہ ورانہ تربیتی اداروں کے نصاب کو فیفا ورلڈ کپ کے انفراسٹرکچر، ہوا بازی (ایوی ایشن)، ہوٹلنگ اور سیاحت کے شعبوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا شروع کر دیا ہے۔ یہ افرادی قوت 2026 سے 2034 کے دوران مختلف مراحل میں سعودی عرب بھیجی جائے گی۔ معاشی اعدادی شمار کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران ہی 2 لاکھ 15 ہزار 719 ورکرز کو جدید تقاضوں کے مطابق سوفٹ اسکلز کی تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان سے باہر جانے والے 96 فیصد سے زائد ورکرز خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ سال 2025 میں سعودی عرب پاکستانیوں کے لیے سب سے بڑی مارکیٹ ثابت ہوا، جہاں 5 لاکھ 30… سے زائد ورکرز گئے، جو مجموعی سالانہ رجسٹریشن کا تقریباً 70 فیصد ہے۔ یہ غیر معمولی مانگ سعودی عرب کے ‘ویژن 2030’ کے تحت جاری تعمیراتی پراجیکٹس کی وجہ سے ہے۔
صرف خلیج پر انحصار کم کرنے کے لیے پاکستان نے یورپی یونین کے ساتھ بھی قانونی ہجرت کے معاہدے تیز کر دیے ہیں۔ ‘پاکستان-ای یو مائیگریشن ڈائیلاگ’ کے تحت اٹلی نے تین سال کے لیے 10 ہزار 500 پاکستانی ورکرز کا کوٹہ مختص کیا ہے، جبکہ جرمنی اور یونان کے ساتھ بھی ماہر افرادی قوت بھیجنے کے معاملات آخری مراحل میں ہیں۔
اس پورے نظام کو شفاف بنانے اور ایجنٹ مافیا کے خاتمے کے لیے بیوروکریسی کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔ ‘پاکستان ایمیگرنٹ مینجمنٹ فریم ورک’ کے ذریعے 14 متعلقہ سرکاری اداروں کو ایک آن لائن تصدیقی نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ بائیومیٹرک تصدیق پر مبنی ‘ڈیجیٹل ایچ آر پول’ سسٹم کو فعال کر دیا گیا ہے تاکہ ہر بھرتی میرٹ کے مطابق اور شفاف ہو
