سائنسدانوں نے سورج کی طاقتور سرگرمیوں کے بارے میں اہم نئی معلومات حاصل کی ہیں، جن سے شمسی شعلوں سن اسپاٹس اور خلا میں خارج ہونے والے طاقتور ذرات کے طوفانوں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔ تازہ تحقیق یہ بھی واضح کرتی ہے کہ سورج کی سرگرمیاں پورے شمسی نظام، خصوصاً زمین، پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔
محققین نے جدید شمسی رصدگاہوں اور خلائی مشنز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے سورج کے مقناطیسی میدان، پلازما کی حرکت اور سطحی سرگرمیوں کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ طاقتور شمسی طوفان کس طرح پیدا ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ کس انداز میں تبدیل ہوتے ہیں۔
تحقیق کا ایک اہم موضوع 11 سالہ شمسی چکر تھا، جس کے دوران سورج کم اور زیادہ سرگرمی کے مراحل سے گزرتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق سورج کے مقناطیسی میدان میں ہونے والی تبدیلیاں شمسی شعلوں اور کورونل ماس ایجیکشنز کو جنم دیتی ہیں، جن کے دوران اربوں ٹن برقی چارج والے ذرات خلا میں خارج ہوتے ہیں۔
محققین نے یہ بھی بتایا کہ شدید شمسی سرگرمیاں زمین پر سیٹلائٹ مواصلات، جی پی ایس، ریڈیو سگنلز اور بجلی کے نظام کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اگرچہ زمین کا مقناطیسی میدان زیادہ تر نقصان دہ شمسی شعاعوں سے حفاظت کرتا ہے، لیکن انتہائی طاقتور شمسی طوفان جدید ٹیکنالوجی میں خلل ڈال سکتے ہیں اور قطبی علاقوں میں خوبصورت شفقِ قطبی کو مزید نمایاں بنا سکتے ہیں۔
تحقیق سے سورج کی بیرونی فضا، جسے کورونا کہا جاتا ہے، میں توانائی کی منتقلی کے بارے میں بھی نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کورونا کا درجۂ حرارت لاکھوں ڈگری تک پہنچ جاتا ہے، حالانکہ یہ سورج کے مرکز سے زیادہ دور واقع ہے۔ اس پراسرار حقیقت پر سائنسدان اب بھی تحقیق کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج کی سرگرمیوں کو سمجھنا خلائی موسم کی بہتر پیش گوئی کے لیے انتہائی اہم ہے، تاکہ خلاء میں موجود خلا بازوں، مصنوعی سیاروں اور زمین پر موجود اہم انفراسٹرکچر کو شمسی طوفانوں کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل کے خلائی مشنز اور جدید شمسی دوربینیں سورج کی مقناطیسی سرگرمی، اندرونی ساخت اور پورے شمسی نظام پر اس کے اثرات کے بارے میں مزید اہم راز سامنے لائیں گی۔
