پاکستان سپر لیگ میں ایک بڑے اور غیر متوقع فیصلے نے سب کی توجہ کھینچ لی ہے، جہاں ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے دس سال کے لیے فرنچائز کے حقوق میں توسیع نہیں کریں گے۔ یہ اعلان انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پیغام کے ذریعے کیا، جس میں انہوں نے اس فیصلے کے پس منظر، جذبات اور مضبوط مؤقف کو واضح کیا۔
علی ترین نے لکھا کہ اس ٹیم کا حصہ ہونا ان کی زندگی کے سب سے بڑے اعزازات میں سے ایک رہا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس ٹیم سے، اس خطے سے اور ان مداحوں سے بے پناہ محبت ہے جنہوں نے ہمیشہ ملتان سلطانز کو اپنا گھر سمجھا۔ ان کے مطابق ان کے مرحوم چچا عالمگیر ترین بھی جنوبی پنجاب کی نمائندگی کو اپنا فخر سمجھتے تھے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے بتایا کہ وہ ہر سیزن کھلاڑیوں اور اسٹاف کو یہ باور کراتے تھے کہ جنوبی پنجاب صرف ایک ٹیم کا نام نہیں، بلکہ ان لوگوں کا خطہ ہے جو محنت، حوصلے اور اپنی شناخت کے لیے ہر دن لڑتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان کا اختتام ایک بھرپور جملے کے ساتھ کیا کہ وہ گھٹنے ٹیک کر ٹیم نہیں چلانا چاہتے، اس لیے ’’یہ الوداع ہے‘‘۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب باقی پانچ فرنچائزز— اسلام آباد یونائیٹڈ، کراچی کنگز، لاہور قلندرز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز — پہلے ہی اگلے دس سال کے لیے اپنے حقوق کی تجدید کر چکی ہیں، جس کی قدر و قیمت Ernst & Young کی مارکیٹ ویلیوایشن کے بعد طے ہوئی۔
ادھر علی ترین اور پی سی بی کے درمیان جاری تناؤ بھی اس صورتحال کا اہم پہلو ہے۔ پی سی بی نے ترین پر معاہدے کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا اور ان سے عوامی معافی کا مطالبہ کیا تھا، جس کے جواب میں ترین نے ایک طنزیہ معافی ویڈیو جاری کی تھی، جس نے معاملے کو مزید شدید بنا دیا۔
یہ فیصلہ نہ صرف PSL کی تاریخ میں اہم موڑ ہے بلکہ جنوبی پنجاب کے مداحوں کے لیے بھی جذباتی لمحہ ہے، جو برسوں سے ملتان سلطانز کو اپنی شناخت کا حصہ سمجھتے آئے ہیں۔
