برٹش کولمبیا کے جنگلات میں بھڑکنے والی آگ نے ایک شخص کی جان لے لی ہے، جبکہ صوبائی حکام نے ہنگامی بنیادوں پر انخلاء کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ شدید گرمی اور ہواؤں کے باعث آگ تیزی سے پھیل رہی ہے، جس نے رہائشی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ریسکیو ٹیموں نے تصدیق کی ہے کہ آگ کے راستے میں پھنس جانے کے باعث ایک شخص موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ حکام نے متوفی کے نام کا اعلان لواحقین کی اطلاع تک مؤخر کیا ہے، تاہم مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ متاثرہ شخص کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا موقع ہی نہیں ملا۔
آگ کا پھیلاؤ غیر معمولی ہے۔ خشک موسم اور تیز ہواؤں نے آگ کو چند گھنٹوں میں ہی بے قابو کر دیا، جس سے مقامی آبادی کے انخلاء کے راستے بھی بند ہو گئے۔ کئی رہائشیوں نے اپنی جان بچانے کے لیے گھروں کو اسی حالت میں چھوڑا جس میں وہ تھے۔
صوبائی فائر ڈپارٹمنٹ کے ایک ترجمان نے بریفنگ کے دوران اعتراف کیا کہ حالات ان کے قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم ایسے خشک ایندھن اور موسمی حالات کا سامنا کر رہے ہیں جو گزشتہ کئی برسوں میں نہیں دیکھے گئے۔ آگ کا پھیلاؤ ہماری زمینی ٹیموں کی توقعات سے کہیں زیادہ تیز ہے۔”
فضائی مدد کے لیے طیارے بھیجے گئے ہیں جو آگ پر کیمیکل کا چھڑکاؤ کر رہے ہیں، تاہم آگ کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ پائلٹس کو ہدف تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرین کے لیے قریبی شہروں میں عارضی پناہ گاہیں قائم کر دی گئی ہیں، جہاں لوگ اپنے گھروں اور سامان کے نقصان پر صدمے کی کیفیت میں ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ نمی کی کمی اور درجہ حرارت کی زیادتی کا یہ سلسلہ مزید چند روز تک جاری رہ سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ فائر فائٹرز کے لیے اگلے 48 گھنٹے انتہائی اہم ہوں گے۔
فی الحال انتظامیہ کی تمام تر توجہ آگ پر قابو پانے اور پھنسے ہوئے لوگوں کی بازیابی پر مرکوز ہے۔ اگرچہ آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، مگر حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ اصل امتحان انسانی جانوں کو مزید نقصان سے بچانا ہے۔
