خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں اور طوفانی ہواؤں نے تباہی مچا دی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق چھتیں گرنے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے واقعات میں کم از کم 9 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 7 سے زائد زخمی ہیں۔
زیادہ تر ہلاکتیں شمالی اضلاع میں ہوئیں جہاں موسلا دھار بارش نے کچے مکانات کی چھتوں کو زمین بوس کر دیا۔ مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مواصلاتی رابطے منقطع ہو چکے ہیں، جس سے امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سوات اور چترال کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، تاہم دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہماری اولین ترجیح بند راستوں کو کھولنا اور متاثرہ خاندانوں تک فوری راشن اور خیمے پہنچانا ہے۔” تاہم، مسلسل بارش کے باعث ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
صوبے کے آٹھ سے زائد اضلاع میں بجلی کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہے۔ درخت گرنے اور کھمبے اکھڑنے سے ٹرانسمیشن لائنیں شدید متاثر ہوئی ہیں، جس سے شہری اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا یہ سلسلہ جمعرات تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے بعد پہاڑی علاقوں میں مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔
مقامی آبادی کے لیے یہ موسمی صورتحال صرف ایک ہنگامی کیفیت نہیں بلکہ زندگی اور روزگار کے لیے مستقل خطرہ بن چکی ہے۔ زمین پہلے ہی پانی سے سیراب ہو چکی ہے، جس سے مزید مکانات کے گرنے کا خدشہ ہے۔
ریسکیو آپریشن جاری ہے، لیکن جب تک آسمان صاف نہیں ہوتا، صوبے کے متاثرہ اضلاع میں ہنگامی صورتحال برقرار رہے گی۔
