سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے کمبائنڈ کمپیٹیٹو ایگزامینیشن کے پیپرز کی دوبارہ جانچ پڑتال کے سندھ ہائی کورٹ کے حکم کو معطل کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے ہزاروں امیدواروں کا مستقبل ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایس پی ایس سی کی جانب سے دائر اپیل پر سماعت کی۔ کمیشن کا موقف تھا کہ ہائی کورٹ کا پیپرز کی ری چیکنگ اور انٹرویوز روکنے کا حکم نہ صرف بھرتیوں کے عمل کو متاثر کرے گا بلکہ صوبائی سول سروس کے پورے ٹائم لائن کو بھی درہم برہم کر دے گا۔
امیدواروں کے لیے عدالتِ عظمیٰ کا یہ اقدام ایک بڑا دھچکا ہے۔ ان میں سے بہت سے امیدواروں کو سندھ ہائی کورٹ کے اس ابتدائی فیصلے سے امید بندھی تھی، جس میں مارکنگ میں بے قاعدگیوں اور شفافیت کے فقدان کے الزامات کی تحقیقات کے لیے پیپرز کی دوبارہ جانچ کا حکم دیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ مبینہ بدعنوانیوں کے خلاف ایک ڈھال سمجھا جا رہا تھا۔
دوسری جانب ایس پی ایس سی کی قانونی ٹیم نے اپنے دفاع میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے تمام تر ضوابط کی پیروی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر ری چیکنگ کا عمل شروع کرنے سے ایک ایسی مثال قائم ہو گی جس سے عدالتی مقدمات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے اور انتظامی امور مفلوج ہو کر رہ جائیں گے۔
سپریم کورٹ کے حکمِ امتناعی کے بعد اب ایس پی ایس سی تحریری نتائج پر جاری تنازع کے باوجود انٹرویوز کا مرحلہ شروع کرنے کے لیے آزاد ہے۔
کمیشن کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ناکام امیدواروں کے خدشات کو دور کیے بغیر بھرتیوں کا عمل آگے بڑھانا سول سروس کے وقار کو نقصان پہنچائے گا۔ درخواست گزاروں کا ایک طویل عرصے سے یہ موقف رہا ہے کہ کا امتحان سلیبس سے باہر کے سوالات اور غیر منصفانہ مارکنگ کی نذر ہو گیا تھا، اور ایس پی ایس سی نے ان شکایات پر کبھی توجہ نہیں دی۔
عدالتِ عظمیٰ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ہے۔ فی الحال بھرتیوں کا عمل بحال ہو چکا ہے، لیکن امتحان کی شفافیت پر اٹھنے والے قانونی سوالات تاحال اپنی جگہ قائم ہیں۔
