سمندری سطح کا بلند ہونا صرف گلیشیئرز پگھلنے کا نتیجہ نہیں ہے۔ ایک نئی سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ زمین پر موجود پانی—یعنی مٹی، جھیلوں اور زیرِ زمین ذخائر میں موجود نمی—عالمی سمندری سطح میں اتار چڑھاؤ کا ایک بڑا سبب ہے۔
برسوں تک ماحولیاتی ماڈلز کی توجہ صرف سمندروں کے پھیلتے ہوئے حجم اور قطبی برف کے پگھلنے پر مرکوز رہی۔ یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے محققین نے اب دریافت کیا ہے کہ ‘ایل نینو’ کا موسمی چکر ایک "پمپ” کی طرح کام کرتا ہے، جو سمندروں اور زمین کے درمیان پانی کی بڑی مقدار کو منتقل کرتا ہے۔
‘لا نینا’ کے برسوں میں آسٹریلیا اور ایمیزون جیسے خطوں میں ہونے والی شدید بارشوں کے باعث پانی مٹی اور اندرونی بیسنز میں جمع ہو جاتا ہے۔ یہ عمل عارضی طور پر عالمی سمندری سطح کو نیچے رکھتا ہے کیونکہ پانی سمندر تک نہیں پہنچ پاتا۔ تاہم، جب ‘ایل نینو’ کا دور آتا ہے تو یہ عمل الٹ جاتا ہے۔ زمین خشک ہو کر پانی کو واپس سمندر میں دھکیل دیتی ہے، جس سے سطحِ آب میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ جان چرچ کہتے ہیں، "ہم کافی عرصے سے سمندر کو ایک بند نظام سمجھ کر دیکھ رہے تھے۔ زمین دراصل ایک دیو ہیکل اسفنج (سپنج) کی طرح ہے جو سمندری سطح کو کنٹرول کرتی ہے، اور عالمی درجہ حرارت میں تبدیلی کے ساتھ یہ اسفنج غیر متوقع رویہ اختیار کر رہا ہے۔”
یہ تحقیق موجودہ ماحولیاتی پیش گوئیوں میں ایک اہم خلا کو ظاہر کرتی ہے۔ سائنسدان جانتے تھے کہ زمینی پانی کا ذخیرہ سمندری سطح کو متاثر کرتا ہے، لیکن اس کی وسعت—جو سال بہ سال ہونے والی تبدیلیوں کا 30 فیصد تک ہے—محققین کے لیے حیران کن ہے۔ یہ کوئی ایک بار ہونے والا واقعہ نہیں، بلکہ ایک متواتر اور غیر مستحکم عمل ہے۔
ساحلی علاقوں کے لیے اس کے نتائج سنگین ہیں۔ سمندری سطح کے موجودہ تخمینے اکثر قلیل مدتی موسمیاتی تغیرات کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں، جس سے پانی کے مستقل اضافے کا رجحان چھپ جاتا ہے۔ اب اس نئے ڈیٹا کی مدد سے سائنسدان عارضی موسمی تبدیلیوں اور موسمیاتی تغیرات کے باعث ہونے والے مستقل اضافے کے درمیان فرق واضح کر سکیں گے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جیسے جیسے موسمیاتی تبدیلی شدت اختیار کر رہی ہے، زمین کا یہ "اسفنج” کمزور پڑ سکتا ہے۔ خشک سالی کے بڑھتے ہوئے واقعات زمین میں ذخیرہ شدہ پانی کو تیزی سے سمندر کی طرف دھکیل سکتے ہیں، جس سے سطحِ آب میں اضافے کی رفتار ان اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے جن پر موجودہ شہری منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
نشتر زدہ اور ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے پیغام واضح ہے: خطرہ صرف پانی کی آہستہ آہستہ بڑھتی ہوئی لہریں نہیں ہیں، بلکہ ایک پیچیدہ نظام ہے جس میں زمین کا انتظام اور عالمی موسمی چکر ہماری توقع سے کہیں زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
