کراچی کے علاقے لیاری میں منگل کی صبح رینجرز کے ساتھ مبینہ مقابلے میں ‘صمد کٹھیاواری گینگ’ کے تین اہم کارندے مارے گئے۔
ترجمان رینجرز کے مطابق پیراملٹری فورس نے خفیہ اطلاع پر لیاری میں ایک ٹھکانے پر چھاپہ مارا۔ اہلکار وہاں پہنچے تو ملزمان نے خود کو گھرا دیکھ کر فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد جوابی کارروائی میں تینوں ملزمان ہلاک ہو گئے۔
ہلاک ہونے والے ملزمان بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھے۔ رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ مقامی تاجروں کے لیے مستقل دردِ سر بنا ہوا تھا اور علاقے کے چھوٹے دکانداروں سے ‘تحفظ’ کے نام پر بھتہ وصول کرتا تھا۔
چھاپے کے دوران رینجرز نے ملزمان کے قبضے سے جدید اسلحہ، بشمول سب مشین گنز اور ہینڈ گرنیڈز برآمد کیے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں قانونی کارروائی اور شناخت کے لیے سول ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ حکام نے فی الحال ملزمان کے مکمل نام ظاہر نہیں کیے، جس کی وجہ گینگ کے دیگر نیٹ ورک کے خلاف جاری تفتیش بتائی جا رہی ہے۔
لیاری جیسے گنجان آباد علاقوں میں جرائم پیشہ گروہوں کا اثر و رسوخ طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنج رہا ہے۔ اگرچہ رینجرز کی اس کارروائی کو شہر میں امن و امان کی بحالی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ گروہ مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں یا ان کی جگہ نئے مجرم سر اٹھا لیں گے؟
رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک نیٹ ورک کے باقی کارندے قانون کی گرفت میں نہیں آ جاتے۔
