عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ ایک کروز شپ پر مسافروں کے درمیان ہنٹا وائرس پھیلا ہو سکتا ہے، کیونکہ ایم ایس آرٹانیا سے جڑے ایک مریضوں کے جھرمٹ کے جائزے میں بیماری کے پھیلاؤ کا ایسا انداز سامنے آیا جس میں ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقلی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکا۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ ہنٹا وائرس عموماً متاثرہ چوہوں یا ان کے فضلے سے جڑا ہوتا ہے، نہ کہ عام مسافروں کے درمیان معمول کے پھیلاؤ سے۔
صحت کے حکام اس معاملے کو احتیاط سے دیکھ رہے ہیں۔ فی الحال اسے ممکنہ منتقلی کا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، نہ کہ اس بات کا قطعی ثبوت کہ وائرس جہاز پر آسانی سے ایک مسافر سے دوسرے مسافر تک پھیل رہا تھا۔ اس کیس کی اہمیت اس غیر معمولی امکان میں ہے، کیونکہ اگر ایسی منتقلی ثابت ہوتی ہے تو اس سے صحتِ عامہ سے متعلق بڑے سوالات پیدا ہوں گے۔
اس کروز شپ سے جڑے مریضوں کے سلسلے نے اس لیے بھی توجہ حاصل کی ہے کہ یہ ہنٹا وائرس کے عام طور پر سمجھے جانے والے طریقۂ پھیلاؤ سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔ عام حالات میں لوگ اس وائرس سے چوہوں، ان کے پیشاب، رال یا آلودہ گرد و غبار کے ذریعے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے مسافروں کے درمیان ممکنہ براہِ راست پھیلاؤ کے اشارے کو عالمی صحت حکام سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔
فی الحال عالمی ادارۂ صحت کا مؤقف محتاط ہے، حتمی نہیں۔ امکان موجود ہے، یہ جھرمٹ غیر معمولی ہے، مگر موجودہ شواہد اتنے مضبوط نہیں کہ اسے مسافر سے مسافر میں معمول کے پھیلاؤ کی ثابت شدہ مثال مان لیا جائے۔ اصل تصویر واضح کرنے کے لیے مزید وبائیاتی تحقیق ضروری رہے گی۔
