میر رضا علی پر حملے کے چھ روز بعد بھی جائے وقوعہ سے ملنے والا گولی کا خول پولیس کے لاکر میں پڑا ہے، جس کا فرانزک معائنہ ابھی تک نہیں کیا جا سکا۔ تفتیشی حکام اب تک بیلسٹک ٹیسٹنگ شروع کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث کیس کی تفتیش ایک اہم موڑ پر آ کر رک گئی ہے۔
اس تاخیر نے مقتول کے لواحقین میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، جنہیں خدشہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملزمان کے سراغ ملنا مشکل ہوتے جائیں گے۔ اگرچہ مقامی پولیس کا مؤقف ہے کہ کیس کو "مکمل احتیاط” کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، لیکن وہ اس بات کا کوئی جواب نہیں دے سکے کہ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود اہم ترین ثبوت کی جانچ کیوں نہیں کی گئی۔
محکمہ پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اعتراف کیا کہ فرانزک لیب میں کیسز کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ تاہم، وہ یہ بتانے سے قاصر رہے کہ اس ہائی پروفائل کیس میں ملنے والے واحد ثبوت کو ترجیحی بنیادوں پر کیوں نہیں پرکھا گیا۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ "ہم دفتری طریقہ کار کے مطابق کام کر رہے ہیں،” تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ نتائج کب تک متوقع ہیں۔
تفتیشی ٹیم کے لیے یہ گولی کا خول ایک کلیدی کڑی ہے۔ بیلسٹک رپورٹ کے بغیر یہ تعین کرنا ناممکن ہے کہ حملہ آوروں کا اسلحہ ماضی کی کسی واردات میں استعمال ہوا یا نہیں۔ اس وقت تفتیش کا سارا دارومدار قریبی علاقوں سے ملنے والی دھندلی سی سی ٹی وی فوٹیج پر ہے، جس سے اب تک ملزمان کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کی یہ خاموشی اگرچہ معمول کا حصہ لگتی ہے، لیکن یہ کیس کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ فرانزک تجزیے میں تاخیر سے نہ صرف گرفتاریوں کا امکان کم ہوتا ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ عینی شاہدین کی یادداشت اور دیگر ڈیجیٹل شواہد بھی غیر موثر ہو جاتے ہیں۔
ساتواں دن قریب ہے اور میر رضا علی کے اہل خانہ اس ایک دھات کے ٹکڑے کی رپورٹ کے منتظر ہیں جو ایک بند لفافے میں پڑا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ لیب حکام کب تک اس کا تجزیہ مکمل کرتے ہیں، یا پھر یہ تفتیش پولیس کی سستی کی نذر ہو جائے گی۔
