حکومت نے آج سے پیٹرول کی قیمت میں 8.50 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 269.80 روپے مقرر ہو گئی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں یہ لگاتار دوسری کمی ہے، جو مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام کے لیے ایک معمولی ریلیف ثابت ہوگی۔
وزارت خزانہ نے منگل کی رات دیر گئے اس فیصلے کی توجیہات جاری کیں۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 272.15 روپے پر برقرار رکھی گئی ہے، جس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبوں پر پڑتا ہے۔ تاہم، موٹر سائیکل سواروں اور عام مسافروں کے لیے پیٹرول کی نئی قیمتیں آج صبح سے نافذ العمل ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ اس حکومتی فیصلے کی بنیادی وجہ بنی۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران بین الاقوامی سطح پر تیل سستا ہوا، جس کے بعد حکومت کو قیمتوں میں کمی کا موقع ملا۔ یہ گزشتہ سہ ماہی کے برعکس صورتحال ہے، جس میں حکومت اکثر قیمتوں میں اضافے کی طرف مائل رہتی تھی۔
ایک عام شہری کے لیے اس کا حساب سادہ ہے۔ موٹر سائیکل کی ٹینکی بھروانے پر اب کل لاگت میں تقریباً 150 روپے کی کمی آئے گی۔ اگرچہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کمی حالیہ بجٹ میں لگائے گئے بھاری ٹیکسوں کے مقابلے میں بہت معمولی ہے، لیکن سڑکوں پر اس کا نفسیاتی اثر واضح دکھائی دے رہا ہے۔
اسلام آباد میں رائیڈ ہیلنگ سروس چلانے والے اسلم خان نے کہا، "یہ ایک چھوٹی سی مدد ہے، لیکن بہرحال مدد تو ہے۔ جب آپ کرائے اور بچوں کی فیسوں کے بوجھ تلے دبے ہوں تو ہر روپیہ اہمیت رکھتا ہے۔”
معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ ریلیف عارضی ثابت ہوسکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی عالمی سپلائی چین کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف کے طے کردہ محصولات کے اہداف پورے کرنے کے لیے حکومت کی پیٹرولیم لیوی پر انحصار، قیمتوں میں مزید نمایاں کمی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہو چکا ہے۔ ملک بھر کے پیٹرول پمپس پر قیمتیں تبدیل کر دی گئی ہیں، جس سے حکومتی فیصلے کے حوالے سے جاری قیاس آرائیاں ختم ہو گئی ہیں۔ اب نگاہیں اس بات پر ہیں کہ آیا عالمی منڈی میں یہ رجحان مہینے کے آخر تک برقرار رہ پائے گا یا نہیں۔
