کراچی پولیس نے میر رضا علی کے قتل کے خلاف شاہراہِ فیصل پر طویل دھرنا دینے اور ٹریفک معطل کرنے والے سیکڑوں مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ گزشتہ روز ہونے والے اس احتجاج نے شہر کی مرکزی شریان کو مکمل طور پر جام کر دیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری گھنٹوں شدید گرمی میں پھنسے رہے۔
ایئرپورٹ تھانے میں درج کی گئی ایف آئی آر میں مظاہرین پر ہنگامہ آرائی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور عوامی خدمات میں رکاوٹ ڈالنے جیسی سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ تفتیشی حکام سی سی ٹی وی فوٹیج اور سوشل میڈیا ویڈیوز کی مدد سے مظاہرے کی قیادت کرنے والے مرکزی کرداروں کی شناخت کر رہے ہیں۔
میر رضا علی کو رواں ہفتے کراچی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔ اس واقعے نے لواحقین اور برادری میں شدید غم و غصے کو جنم دیا، جس کے بعد مشتعل افراد نے شاہراہِ فیصل کا رخ کیا اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے والے راستوں کو بند کر دیا۔
مظاہرین کا موقف ہے کہ پولیس کی جانب سے قاتلوں کی عدم گرفتاری اور سیکیورٹی کی فراہمی میں ناکامی نے انہیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔ احتجاج میں شریک ایک شخص نے کہا کہ "ہم شہریوں کو تکلیف نہیں دینا چاہتے، لیکن جب انصاف کا حصول ناممکن نظر آئے تو آواز اٹھانے کے لیے سڑک ہی واحد راستہ بچتا ہے۔”
دوسری جانب، اس احتجاج نے شہر کے انتظامی ڈھانچے کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ ٹریفک حکام کے مطابق شاہراہِ فیصل پر کئی کلومیٹر طویل ٹریفک جام رہا، جس سے ایمبولینسیں، مسافر اور دفاتر جانے والے شہری بری طرح متاثر ہوئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران تصادم سے بچنے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کیا گیا، تاہم اب قانون توڑنے والوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔ پولیس کے مطابق میر رضا علی کے قتل کیس میں دو مشتبہ افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور جلد گرفتاری متوقع ہے۔
فی الحال شاہراہِ فیصل پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، لیکن مظاہرین کے خلاف مقدمے کے اندراج نے علاقے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ شہر کی انتظامیہ اب اس چیلنج سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے کہ امن و امان کی بحالی اور عوامی احتجاج کے حق کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔
