نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں 52 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اضافہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے، جس کا براہِ راست اثر ملک بھر کے صارفین کے ماہانہ بجلی کے بلوں پر پڑے گا۔
بجلی کی قیمتوں میں یہ ردوبدل گزشتہ ماہ کے ایندھن کے اخراجات اور اصل لاگت کے فرق کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اگرچہ 52 پیسے کا اضافہ بظاہر معمولی لگتا ہے، لیکن یہ ان لاکھوں گھرانوں کے لیے ایک اور مالی دھچکا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ 200 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین کے لیے یہ اضافہ بل میں سو روپے سے زائد کا اضافی بوجھ ڈالے گا۔
ماہرینِ توانائی کا کہنا ہے کہ نیپرا کا یہ اقدام پاور سیکٹر کی ناکامیوں کا تسلسل ہے۔ بجلی کی قیمتیں بڑھانے کے بجائے اگر لائن لاسز، بجلی چوری، اور مہنگے بجلی گھروں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے تو عوام کو اس مسلسل اضافے سے بچایا جا سکتا ہے۔ تاہم، حکومتی ترجیحات میں اصلاحات کے بجائے مالیاتی خسارے کو پورا کرنا اولین ترجیح نظر آتا ہے۔
وزارت خزانہ کا موقف ہے کہ تقسیم کار کمپنیوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے اور سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضوں) کے بھنور سے نکلنے کے لیے قیمتوں میں یہ ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر یہ فیصلہ مجبوری ہے۔
دوسری جانب، تاجر برادری اور عام شہری اس اضافے کو مسترد کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بجلی کی قیمتیں بڑھنے سے نہ صرف گھریلو بجٹ متاثر ہوگا بلکہ صنعتی پیداوار بھی مزید مہنگی ہو جائے گی، جس کا حتمی نتیجہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔
حکومت کا یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس کا اطلاق تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے صارفین پر ہوگا۔ توانائی کے شعبے میں جاری یہ بحران کب تھمے گا اور کب حکومت قیمتوں میں اضافے کے بجائے گردشی قرضوں کے اصل اسباب کا قلع قمع کرے گی، اس کا جواب تاحال کسی کے پاس نہیں۔
