گل پلازہ میں لگنے والی تباہ کن آگ کے مقدمے نے اس وقت نیا موڑ لے لیا جب دفاعی وکلاء نے تفتیشی حکام پر سنگین الزامات عائد کر دیے۔ عدالت میں دلائل دیتے ہوئے وکلاء کا کہنا تھا کہ پولیس جان بوجھ کر سرکاری اداروں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اصل ذمہ داروں تک پہنچنے کا راستہ روکا جا سکے۔ یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب عدالت نے کیس کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی استدعا مسترد کر دی۔
متاثرین کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑا دھچکا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا موقف ہے کہ مقامی پولیس کے پاس نہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی وہ آزادی، جس کے ذریعے طاقتور سرکاری محکموں کی غفلت کو بے نقاب کیا جا سکے۔ ان کا الزام ہے کہ عمارت کے حفاظتی انتظامات میں جو کوتاہیاں ہوئیں، وہ براہِ راست سرکاری اداروں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہیں۔
عدالت میں بحث کے دوران مرکزی وکیل صفائی نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا، "ہمیں یہاں تفتیش نہیں، بلکہ حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش نظر آ رہی ہے۔” ان کا دعویٰ تھا کہ آگ لگنے کی وجوہات اور ناقص انفراسٹرکچر کے ٹھوس شواہد کو پولیس کی جانب سے نظر انداز کیا جا رہا ہے تاکہ سرکاری افسران کو قانونی شکنجے سے دور رکھا جا سکے۔
دوسری جانب، پولیس حکام نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ اب تک کافی تکنیکی ڈیٹا اکٹھا کر چکے ہیں اور جے آئی ٹی کا قیام صرف عدالتی عمل کو پیچیدہ بنائے گا، جس سے حتمی چالان جمع کرانے میں مزید تاخیر ہوگی۔
عدالت نے جے آئی ٹی بنانے سے انکار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ تاحال ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ موجودہ تفتیشی ٹیم اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے نے دفاعی وکلاء کے لیے ایک مشکل کھڑی کر دی ہے، کیونکہ اب انہیں تعصب کے محض الزامات کے بجائے ٹھوس ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔
گل پلازہ آتشزدگی کا واقعہ شہر کے بوسیدہ حفاظتی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ آگ نے عمارت کے ہنگامی راستوں اور فائر ہائیڈرنٹس کی ناکارہ صورتحال کو بے نقاب کیا، جن کی دیکھ بھال کی ذمہ داری مختلف میونسپل اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
کیس کو مقامی پولیس کے پاس برقرار رکھ کر عدالت نے قانونی تسلسل کو ترجیح دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ تفتیش کسی منطقی انجام تک پہنچے گی یا اسے بھی سرد خانے کی نذر کر دیا جائے گا؟ فی الحال، فائلیں انہی تفتیش کاروں کے پاس ہیں جن پر وکلاء عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، اور متاثرین کے لیے انصاف کا حصول ایک دور کی منزل بنتا جا رہا ہے۔
