تہران نے امریکہ اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے مشترکہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے "مداخلت پسندانہ” اور "اشتعال انگیز” قرار دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد خطے میں کشیدگی کو ہوا دینا ہے۔
یہ سفارتی تناؤ ریاض میں ہونے والے اس اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی اور خلیجی حکام نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی پراکسی فورسز کی حمایت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ منگل کو جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں تہران کی عسکری سرگرمیوں کو سمندری سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا تھا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان ہمسایہ ممالک کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی دانستہ کوشش ہے۔
سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا، "امریکہ اور جی سی سی کے کچھ ارکان اپنی موجودگی کا ملبہ ہم پر ڈال رہے ہیں۔ یہ بیان حقیقت سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، جبکہ خطے میں عدم تحفظ کی اصل وجہ غیر ملکی فوجی مداخلت ہے۔”
امریکی-جی سی سی اعلامیے میں خاص طور پر ڈرونز اور میزائلوں کے پھیلاؤ کا ذکر کیا گیا اور اسے خلیجی ریاستوں کی خودمختاری کے لیے براہ راست چیلنج قرار دیا گیا۔ واشنگٹن طویل عرصے سے خطے میں ایک متحد فضائی دفاعی نظام قائم کرنے پر زور دے رہا ہے۔ تہران اس اقدام کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے اپنی سرحدوں کے گرد مغربی عسکری حصار بنانے کی کوشش سمجھتا ہے۔
خلیجی ممالک برسوں سے ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش میں ہیں۔ ایک طرف وہ واشنگٹن سے سکیورٹی کی ضمانتیں چاہتے ہیں، تو دوسری طرف تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہیں۔ یہ تازہ ترین مشترکہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ سفارتی برف پگھلنے کے باوجود، باہمی بداعتمادی کی دیوار ابھی برقرار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کا وقت اہم ہے۔ امریکہ میں جاری انتخابی عمل اور غزہ و لبنان کی صورتحال نے خطے میں پراکسی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں واشنگٹن اور ریاض ایک متحد محاذ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، تہران کا موقف ہے کہ اس کا دفاعی نظام صرف اور صرف ایک روک تھام ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی گزشتہ ایک ماہ سے علاقائی دارالحکومتوں کے دورے کر رہے ہیں، جس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ ایران مزید کشیدگی کے بجائے سفارتی مشغولیت کو ترجیح دیتا ہے۔
یہ بیان بازی صرف سیاسی دباؤ کا حربہ ہے یا کسی سخت گیر پالیسی کا پیش خیمہ، یہ ابھی واضح نہیں۔ فی الحال، "خود مختار دفاع” اور "علاقائی خطرے” کے درمیان خلیج پہلے کی طرح گہری ہے۔
