آزاد جموں و کشمیر کے ضلع بھمبر میں منگل کی شب نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی گشت پر مامور گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک کانسٹیبل موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہے۔
واقعہ سرحد کے قریب ایک دور افتادہ علاقے میں پیش آیا۔ پولیس اہلکار معمول کی گشت پر تھے کہ گھات لگائے حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کو نشانے پر لے لیا۔
حملے میں کانسٹیبل سفیر احمد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ ان کے ساتھی کانسٹیبل ذیشان کو شدید زخمی حالت میں پہلے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں طبی امداد کے لیے میرپور کے ٹراما سینٹر ریفر کر دیا گیا۔
پولیس نے واقعے کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ اضافی نفری طلب کر کے سرچ آپریشن شروع کیا گیا، تاہم حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ضلعی پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ ایک "ٹارگٹڈ حملہ” معلوم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق حملہ آوروں کو گشت کے روٹ کا مکمل علم تھا اور انہوں نے انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائی کی۔
ابھی تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ سیکیورٹی ادارے اس واقعے کو حساس علاقے میں ہونے والی نقل و حرکت سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ بھمبر کے اس سیکٹر میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران سیکیورٹی الرٹس میں اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم پولیس اہلکاروں پر براہِ راست حملے اس علاقے میں غیر معمولی نوعیت کا واقعہ ہے۔
حکومتِ آزاد کشمیر نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ضلع بھر میں پولیس کی چوکیاں ہائی الرٹ پر ہیں اور داخلی و خارجی راستوں پر گاڑیوں کی کڑی تلاشی لی جا رہی ہے۔
اس حملے نے مقامی پولیس فورس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حکام اب اس بات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ حملہ آوروں کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جائے تاکہ انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔
