رپورٹس کے مطابق صورتحال صرف گرفتاریوں تک محدود نہیں بلکہ شیعہ افراد کو ملک بدر بھی کیا جا رہا ہے۔ مبینہ طور پر ملک بدری سے پہلے انہیں 7 سے 12 دن تک حراست میں رکھا جاتا ہے، جہاں انہیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں مسلسل ایئر کنڈیشننگ کی وجہ سے شدید سردی، انتہائی کم خوراک (جیسے روزانہ صرف ایک انڈا) اور جسمانی بدسلوکی شامل ہیں۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اہلکار زیرِ حراست افراد کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں کہتے ہیں کہ وہ مدد کے لیے “علی” یا “مہدی” کو پکاریں۔
