اسکاٹ لینڈ کے شمالی علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے رواں ماہ کے آخر میں ایک مختصر مگر دلچسپ فلکیاتی نظارہ متوقع ہے۔ 29 مارچ کو سورج گرہن کا ایک جزوی مرحلہ شمالی بحر اوقیانوس سے گزرے گا، جس کا کچھ حصہ اسکاٹ لینڈ کے شمالی جزائر سے دیکھا جا سکے گا۔
یہ گرہن صبح سویرے شروع ہوگا۔ آؤٹر ہیبرائیڈز ، اورکنی اور شیٹ لینڈ کے رہائشی اس قدرتی منظر کے سب سے زیادہ قریب ہوں گے۔ تاہم، یہ مکمل سورج گرہن نہیں ہے، اس لیے دن میں اندھیرا چھانے یا درجہ حرارت میں نمایاں کمی کی توقع نہ رکھیں۔
اسٹورنوے میں گرہن اپنے عروج پر صبح تقریباً 10:30 بجے ہوگا، جہاں چاند سورج کے صرف 5 سے 8 فیصد حصے کو ڈھانپ پائے گا۔ گلاسگو اور ایڈنبرا جیسے جنوبی شہروں میں رہنے والوں کے لیے یہ نظارہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوگا، کیونکہ چاند کا سایہ اسکاٹ لینڈ کے مرکزی حصے سے دور رہے گا۔
ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ ایک معمولی فلکیاتی ترتیب ہے۔ اس کا زیادہ تر اثر آرکٹک اور گرین لینڈ کے علاقوں میں دیکھا جائے گا، جبکہ اسکاٹ لینڈ اس سائے کے انتہائی جنوبی کنارے پر واقع ہے۔
مقامی رصد گاہ کے ایک ترجمان کے مطابق، "اگر آپ کے پاس خصوصی سولر فلٹرز اور مشرق کی جانب صاف آسمان نہیں ہے، تو سورج کی روشنی میں ہونے والی معمولی تبدیلی کو محسوس کرنا مشکل ہوگا۔”
صحت اور حفاظت کے حوالے سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو براہِ راست دیکھنا آنکھوں کے لیے خطرناک ہے۔ عام دھوپ کے چشمے اس کے لیے ناکافی ہیں۔ ماہرین نے تاکید کی ہے کہ صرف آئی ایس او سے تصدیق شدہ ایکلپس گلاسز کا استعمال کریں یا سائے کے ذریعے پروجیکشن کا طریقہ اپنائیں تاکہ آنکھوں کو کسی بھی قسم کے مستقل نقصان سے بچایا جا سکے۔
اسکاٹ لینڈ کے شمالی جزائر میں مارچ کا موسم اکثر غیر متوقع رہتا ہے۔ اگر آسمان پر بادل ہوئے یا دھند چھائی رہی، تو یہ مختصر سا نظارہ بھی اوجھل ہو سکتا ہے۔
اس گرہن کے بعد اگلا بڑا فلکیاتی واقعہ اگست 2026 میں متوقع ہے، جب برطانیہ بھر میں سورج گرہن کا ایک زیادہ واضح اور ڈرامائی منظر دیکھا جا سکے گا۔ فی الحال، 29 مارچ کا یہ جزوی گرہن ان فلکیاتی پیمانوں کی یاد دہانی ہے، جہاں عرض البلد میں چند میل کا فرق بھی نظارے کی نوعیت کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے۔
