اسرائیلی طیاروں نے منگل کے روز حمص کے قریب واقع ایک اہم شامی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ حملے کا ہدف مبینہ طور پر وہ تنصیبات تھیں جہاں سے ایران نواز ملیشیاؤں کے لیے ہتھیاروں کی ترسیل کی جاتی ہے۔ اس کارروائی نے نہ صرف شام کی حدود کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے بھی سخت ردعمل کو جنم دیا ہے۔
واشنگٹن کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس حملے کو "غیر ضروری اشتعال انگیزی” قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حملے خطے میں پہلے سے موجود نازک صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس طویل عرصے سے اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ شام میں ایسی کارروائیوں سے گریز کرے، کیونکہ خدشہ ہے کہ یہ اقدامات امریکی فوج کو کسی بڑے علاقائی تصادم میں الجھا سکتے ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوجی قیادت کا موقف واضح ہے۔ تل ابیب کے دفاعی حلقوں کے مطابق، حمص کا یہ اڈا لبنانی حزب اللہ تک جدید میزائل اور ہتھیار پہنچانے کا اہم مرکز ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا ماننا ہے کہ سفارتی دباؤ کے باوجود، ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے ایسی "سرجیکل سٹرائیکس” ناگزیر ہیں۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ خطے میں کشیدگی کو محدود رکھنے کے لیے پس پردہ سفارت کاری میں مصروف ہے۔ محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے تسلیم کیا کہ اس قسم کے حملے ان سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں جن کا مقصد غزہ کی جنگ کو پورے خطے میں پھیلنے سے روکنا ہے۔
اسرائیلی فوج نے اپنی روایتی پالیسی کے تحت اس حملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے یہ پیغام دیا ہے کہ اس کی انٹیلی جنس پہنچ شام کے کسی بھی حصے تک ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حملے کے دوران شامی فضائی دفاعی نظام — جو روسی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے — مکمل طور پر خاموش رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس بھی اس وقت براہ راست تصادم سے بچنا چاہتا ہے۔
دمشق نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے، لیکن شامی حکومت کی جانب سے کسی جوابی کارروائی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ شامی فوج پہلے ہی اندرونی خلفشار اور وسائل کی کمی کا شکار ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا یہ خلیج اب واضح دکھائی دے رہا ہے۔ جہاں دونوں ممالک ایران کے اثر کو محدود کرنے پر متفق ہیں، وہیں ان کے طریقہ کار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ امریکہ سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ اسرائیل طاقت کے استعمال کو اپنی بقا کا واحد راستہ سمجھتا ہے۔
حمص کے فوجی اڈے پر ہونے والا یہ حملہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل اپنے سٹریٹجک مفادات کے لیے اپنے سب سے قریبی اتحادی کی ناراضگی مول لینے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔
